صحیح مسلم حدیث ۱۵۱ - ایمان کا مزہ کیسے ملتا ہے
ایمان کا مزہ: اللہ، اسلام اور رسول پر راضی ہونا
صحیح مسلم : ۱۵۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۱
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيُّ وَبِشْرُ بْنُ الْحَكَمِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " ذَاقَ طَعْمَ الإِيمَانِ ، مَنْ رَضِيَ بِاللَّهِ رَبًّا ، وَبِالإِسْلَامِ دِينًا ، وَبِمُحَمَّدٍ رَسُولًا " .
عباس بن عبدالمطلب روایت:
سیدنا عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: ”ایمان کا مزہ چکھا اس نے جو راضی ہو گیا اللہ کی حکمرانی پر اور اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی پیغمبری پر۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایمان کے مزے کی بات بہت مختصر مگر گہری صورت میں آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کا مزہ اس نے چکھا جو اللہ کو رب مان کر راضی ہو گیا، اسلام کو دین مان کر راضی ہو گیا، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول مان کر راضی ہو گیا۔ یہاں ایمان صرف زبان کی بات نہیں، بلکہ دل کی رضا بھی ہے۔ بندہ اللہ کی ربوبیت کو مانے، اسلام کو اپنا راستہ سمجھے، اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو دل سے قبول کرے۔ یہی حلاوت ایمان کا اصل مضمون ہے۔ اس حدیث میں مسلمان کو اپنی رضا، یقین اور دینی وابستگی درست کرنے کی نصیحت ملتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کا مزہ دل کی رضا کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔
- اللہ کو رب ماننا ایمان کی بنیادی بات ہے۔
- اسلام کو دین مان کر مطمئن ہونا مطلوب ہے۔
- محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول ماننا ایمان کا لازمی حصہ ہے۔
