صحیح مسلم حدیث ۱۵۹ - ایمان لاؤ پھر قائم رہو

ایمان کے بعد استقامت: آمنت باللہ فاستقم

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۹

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ . ح وحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ جميعا ، عَنْ جَرِيرٍ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ كُلُّهُمْ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيِّ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لِي فِي الإِسْلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْهُ أَحَدًا بَعْدَكَ ، وَفِي حَدِيثِ أَبِي أُسَامَةَ : غَيْرَكَ ، قَالَ : " قُلْ آمَنْتُ بِاللَّهِ فَاسْتَقِمْ " .

سفیان بن عبداللہ ثقفی روایت:

میں نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے اسلام میں ایک ایسی بات بتا دیجئے کہ پھر میں اس کو آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ میں اللہ پر ایمان لایا پھر اس پر جما رہ۔ ابواسامہ کی روایت میں ہے آپ کے سوا کسی سے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۵۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں سفیان بن عبداللہ ثقفی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک جامع بات پوچھی۔ انہوں نے عرض کیا کہ اسلام میں مجھے ایسی بات بتا دیجیے کہ پھر آپ کے بعد کسی سے نہ پوچھوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مختصر مگر مکمل جواب دیا کہ کہو میں اللہ پر ایمان لایا، پھر اس پر قائم رہو۔ اس حدیث کا اصل پیغام ایمان اور استقامت ہے۔ صرف ایمان کا دعویٰ کافی نہیں، بلکہ بندے کو اسی ایمان پر چلتے رہنا ہے۔ یہ نصیحت روزمرہ زندگی کے لیے بھی ہے کہ مسلمان اپنے رب پر ایمان کو مضبوط رکھے اور اپنے عمل، زبان اور رویے میں سیدھا راستہ اختیار کرے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اللہ پر ایمان لانا اسلام کی بنیاد ہے۔
  • ایمان کے بعد اس پر قائم رہنا ضروری ہے۔
  • دین کی بڑی بات کبھی مختصر جملے میں بھی بیان ہو سکتی ہے۔
  • مسلمان کو اپنی زندگی میں سیدھا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں