صحیح مسلم حدیث ۱۵۸ - حیا والی روایت کی تائید
حیا خیر ہے: ایک اور سند سے روایت
صحیح مسلم : ۱۵۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۸
حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا النَّضْرُ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَعَامَةَ الْعَدَوِيُّ ، قَالَ : سَمِعْتُ حُجَيْرَ بْنَ الرَّبِيعِ الْعَدَوِيَّ ، يَقُولُ : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ .
عمران بن حصین روایت:
ایک اور سند سے عمران بن حصین کی روایت ہے جس کا معنی سابقہ روایت والا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۸ کا خلاصہ
یہ حدیث عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کی اسی روایت کو ایک اور سند سے بیان کرتی ہے، جس کا معنی پچھلی روایت جیسا ہے۔ اس میں تفصیل کم ہے، مگر مقصد وہی ہے کہ حیا خیر والی صفت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کو اسی طرح نقل کیا گیا جیسے صحابہ اور راویوں تک پہنچا۔ ایسی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کا علم صرف ایک راستے سے نہیں بلکہ مختلف سندوں سے محفوظ ہوا۔ یہاں اصل مضمون حیا کی فضیلت ہے۔ مسلمان کے لیے یہ بات کافی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو خیر بتایا، اس لیے اچھی حیا کو دل و عمل میں جگہ دینی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی حدیث مختلف سندوں سے روایت ہو سکتی ہے۔
- حیا کو خیر والی صفت سمجھنا چاہیے۔
- مختصر روایت بھی سابقہ معنی کی تائید کر سکتی ہے۔
- حدیث نقل کرنے میں معنی اور سند دونوں کی حفاظت اہم ہے۔
