صحیح مسلم حدیث ۱۵۴ - حیا ایمان میں داخل ہے
حیا ایمان کا حصہ ہے
صحیح مسلم : ۱۵۴
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۴
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالُوا : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يَعِظُ أَخَاهُ فِي الْحَيَاءِ ، فَقَالَ : " الْحَيَاءُ مِنَ الإِيمَانِ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا ایک شخص اپنے بھائی کو حیا کے باب میں نصیحت کر رہا تھا فرمایا: ”(جانے دے یعنی حیا سے مت منع کر) حیا ایمان میں داخل ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو، حیا ایمان میں داخل ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اچھی حیا ایسی صفت ہے جو ایمان سے جڑی ہوئی ہے۔ اگر کوئی شخص حیا کی وجہ سے بے حیائی، سخت کلامی یا غلط انداز سے بچتا ہے تو یہ اچھی بات ہے۔ حدیث کا اصل مقصد یہ ہے کہ حیا کو کمزوری سمجھ کر ہر حال میں ختم کرنے کی کوشش نہ کی جائے۔ حیا مسلمان کے اخلاق کو نرم اور پاکیزہ بناتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیا ایمان کا حصہ ہے۔
- اچھی حیا سے منع نہیں کرنا چاہیے۔
- مسلمان کے اخلاق میں حیا ایک پسندیدہ صفت ہے۔
- نصیحت کرتے وقت دینی معیار کو سامنے رکھنا چاہیے۔
