صحیح مسلم حدیث ۱۵۵ - انصاری بھائی کو حیا کی نصیحت
حیا کے بارے میں نصیحت اور نبوی رہنمائی
صحیح مسلم : ۱۵۵
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۵
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ .
اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا داری کی نصیحت کر رہا ہے باقی حدیث وہی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۵ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو ایک اور انداز سے بیان کرتی ہے۔ اس میں آیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انصار کے ایک آدمی کے پاس سے گزرے، جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا۔ باقی حدیث وہی ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کو ایمان سے جوڑا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حیا کا مسئلہ صحابہ کے درمیان بھی گفتگو کا موضوع بنا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر صاف رہنمائی دی۔ اصل بات یہ ہے کہ اچھی حیا کو برا نہ سمجھا جائے۔ حیا ایمان کا حصہ ہے، اس لیے مسلمان کو اس صفت کی قدر کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیا کو ایمان سے الگ نہ سمجھا جائے۔
- رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حیا کی تائید فرمائی۔
- نصیحت میں بھی صحیح دینی سمجھ ضروری ہے۔
- ایک ہی حدیث مختلف سندوں سے نقل ہو سکتی ہے۔
