صحیح مسلم حدیث ۱۵۲ - ایمان کی شاخیں اور حیا
ایمان کی شاخیں اور حیا کی اہمیت
صحیح مسلم : ۱۵۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۲
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا : حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ شُعْبَةً ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کو صرف ایک دعوے تک محدود نہیں رکھا، بلکہ فرمایا کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔ پھر خاص طور پر فرمایا کہ حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کا اثر انسان کے اخلاق اور رویے میں بھی آتا ہے۔ حیا کا مطلب یہاں وہ پاکیزہ عادت ہے جو انسان کو بے جا بات، غلط حرکت اور برے انداز سے روکتی ہے۔ حدیث میں تعداد کا ذکر ایمان کے پھیلاؤ اور مختلف نیکیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ مسلمان کے لیے یہ حدیث یاد دلاتی ہے کہ ایمان زبان، دل اور عمل میں اچھے اثرات پیدا کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایمان کی بہت سی شاخیں ہیں۔
- حیا ایمان کا حصہ ہے۔
- ایمان کا اثر اخلاق میں بھی نظر آنا چاہیے۔
- اچھی عادتیں ایمان کو سنوارتی ہیں۔
