صحیح مسلم حدیث ۱۵۳ - ایمان کی شاخیں اور راستے سے تکلیف ہٹانا
لا الہ الا اللہ سے راستے کی تکلیف ہٹانے تک ایمان
صحیح مسلم : ۱۵۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۳
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسَبْعُونَ أَوْ ، بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً ، فَأَفْضَلُهَا قَوْلُ : لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَدْنَاهَا إِمَاطَةُ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ ، وَالْحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان کی ستر پر کئی یا ساٹھ پر کئی شاخیں ہیں ان سب میں افضل لاَ اِلہَ اِلاَّ اللہ کہنا ہے اور ادنیٰ ان سب میں راہ میں سے موذی چیز کا ہٹانا ہے اور حیا ایمان کی ایک شاخ ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایمان کی شاخوں کو بہت خوب صورت انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایمان کی ستر سے کچھ زیادہ یا ساٹھ سے کچھ زیادہ شاخیں ہیں۔ ان میں سب سے افضل لا الہ الا اللہ کہنا ہے، اور ادنیٰ درجہ راستے سے موذی چیز ہٹانا ہے۔ پھر فرمایا کہ حیا بھی ایمان کی ایک شاخ ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف زبان کا اقرار نہیں، بلکہ اچھے کام بھی اس سے جڑے ہیں۔ کلمہ توحید ایمان کی اصل ہے، اور لوگوں کی راہ سے تکلیف ہٹانا بھی ایمان کے اچھے اثرات میں سے ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- لا الہ الا اللہ کہنا ایمان کی سب سے افضل شاخ ہے۔
- راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا بھی نیکی ہے۔
- حیا ایمان کا حصہ ہے۔
- ایمان کا تعلق عقیدہ، اخلاق اور عمل سب سے ہے۔
