صحیح مسلم حدیث ۱۵۶ - حیا سے خیر آتی ہے
حیا سے خیر ہی آتی ہے
صحیح مسلم : ۱۵۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۵۶
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا السَّوَّارِ يُحَدِّثُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " الْحَيَاءُ لَا يَأْتِي إِلَّا بِخَيْرٍ " ، فَقَالَ بُشَيْرُ بْنُ كَعْبٍ : إِنَّهُ مَكْتُوبٌ فِي الْحِكْمَةِ ، أَنَّ مِنْهُ وَقَارًا ، وَمِنْهُ سَكِينَةً ، فَقَالَ عِمْرَانُ : أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتُحَدِّثُنِي عَنْ صُحُفِكَ .
عمران بن حصین روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حیا سے نہیں ہوتی مگر بہتری۔“ بشیر بن کعب نے کہا حکمت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ حیا ہی سے وقار ہوتا ہے اور حیا سے سکینت ہوتی ہے۔ عمران نے کہا: میں تو تجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حدیث بیان کرتا ہوں اور تو اپنی کتابوں کی باتیں بیان کرتا ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۱۵۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں عمران بن حصین رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بیان کرتے ہیں کہ حیا سے نہیں ہوتی مگر بہتری۔ بشیر بن کعب نے حکمت کی کتابوں کا ایک قول ذکر کیا کہ حیا سے وقار اور سکینت بھی ہوتی ہے۔ عمران رضی اللہ عنہ نے اس پر ناراضی ظاہر کی اور کہا کہ میں تم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم اپنی کتابوں کی بات کرتے ہو۔ اس حدیث کا اصل سبق دو باتوں میں ہے۔ پہلی یہ کہ حیا خیر والی صفت ہے۔ دوسری یہ کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سامنے ہو تو اسے سب باتوں پر مقدم رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حیا خیر کا سبب بنتی ہے۔
- نبوی حدیث کو دوسری باتوں پر مقدم رکھنا چاہیے۔
- دینی گفتگو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کا ادب ضروری ہے۔
- صحابہ حدیث کے معاملے میں بہت حساس تھے۔
