صحیح مسلم حدیث ۱۶۰ - بہترین اسلام کھانا کھلانا اور سلام کرنا
بہترین اسلام: کھانا کھلانا اور سب کو سلام کرنا
صحیح مسلم : ۱۶۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۰
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الإِسْلَامِ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " تُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(یہ کہ تو بھوکے اور مہمان کو) کھانا کھلا دے اور ہر شخص سے سلام کرے خواہ تو اس کو پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔“
صحیح مسلم حدیث ۱۶۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ تو کھانا کھلائے اور ہر شخص کو سلام کرے، چاہے اسے پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔ اس حدیث میں اسلام کے دو آسان مگر بہت خوبصورت عمل بیان ہوئے ہیں۔ پہلا عمل بھوکے، مہمان یا ضرورت مند کو کھانا دینا ہے۔ دوسرا عمل سلام کو عام کرنا ہے، صرف جاننے والوں تک محدود نہیں۔ اس سے مسلمان کے اخلاق، محبت اور معاشرتی تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔ حدیث کا پیغام صاف ہے کہ اچھا اسلام صرف عبادت تک محدود نہیں، بلکہ لوگوں کے ساتھ حسن سلوک میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا کھلانا بہترین اسلامی اخلاق میں سے ہے۔
- سلام جاننے اور نہ جاننے والے سب کو کیا جا سکتا ہے۔
- اسلام لوگوں کے ساتھ اچھے برتاؤ کی تعلیم دیتا ہے۔
- معاشرے میں محبت بڑھانے کے لیے سلام کو عام کرنا چاہیے۔
