صحیح مسلم حدیث ۱۶۱ - بہترین مسلمان کی پہچان

بہترین مسلمان کون ہے؟ زبان اور ہاتھ سے حفاظت کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۶۱

وحَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ الْمِصْرِيُّ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ، يَقُولُ : إِنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيُّ الْمُسْلِمِينَ خَيْرٌ ؟ قَالَ : " مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ ، وَيَدِهِ " .

عبداللہ بن عمرو بن العاص روایت:

ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: کون سا مسلمان بہتر ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ مسلمان جس کی زبان اور ہاتھ سے مسلمان بچے رہیں (یعنی نہ زبان سے کسی مسلمان کی برائی کرے نہ ہاتھ سے کسی کو ایذا دے)۔“

صحیح مسلم حدیث ۱۶۱ کا خلاصہ

یہ حدیث ہمیں بہت سیدھی بات سمجھاتی ہے کہ بہترین مسلمان صرف دعوے سے نہیں بنتا، بلکہ اس کے اخلاق سے پہچانا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ وہ مسلمان بہتر ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ زبان سے مراد گالی، طعنہ، جھوٹ، غیبت یا ایسی بات ہے جس سے کسی کا دل دکھے۔ ہاتھ سے مراد مارنا، ظلم کرنا، نقصان پہنچانا یا کسی کو تکلیف دینا ہے۔ اس لیے زبانی حفاظت اور عملی حفاظت دونوں ضروری ہیں۔ آج بھی لوگ گوگل پر بہترین مسلمان کون ہے، زبان اور ہاتھ والی حدیث، اور مسلمان کو تکلیف نہ دینے کی حدیث تلاش کرتے ہیں، کیونکہ یہ حدیث روزمرہ زندگی سے جڑی ہوئی ہے۔ اصل سبق یہ ہے کہ مسلمان اپنے گھر، محلے اور معاشرے میں امن کا سبب بنے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اچھا مسلمان وہ ہے جس سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔
  • زبان سے برائی کرنا بھی نقصان پہنچانے میں شامل ہو سکتا ہے۔
  • ہاتھ سے تکلیف دینا اسلام کے اچھے اخلاق کے خلاف ہے۔
  • اپنے عمل سے دوسروں کو امن دینا ایمان کی خوبصورتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں