صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۵ - اچھی بات، پڑوسی اور مہمان
اچھی بات کہو یا خاموش رہو: ایمان اور اخلاق کی حدیث
صحیح بخاری : ۶۴۷۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۷۵
حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَا يُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات کہے ورنہ خاموش رہے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے اور جو کوئی اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ اپنے مہمان کی عزت کرے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۷۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ایمان اور روزمرہ اخلاق کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔ پھر فرمایا کہ وہ اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ پہنچائے، اور اپنے مہمان کی عزت کرے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان صرف دل کا دعویٰ نہیں، بلکہ زبان، پڑوس اور مہمان نوازی میں بھی نظر آتا ہے۔ اچھی بات کہنا، خاموشی اختیار کرنا، پڑوسی کو اذیت نہ دینا اور مہمان کا احترام کرنا عام زندگی کے کام ہیں، مگر حدیث انہیں ایمان کے ساتھ جوڑتی ہے۔ یہی اسلامی اخلاق کی سادہ اور عملی تعلیم ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اچھی بات نہ ہو تو خاموش رہنا بہتر ہے۔
- پڑوسی کو تکلیف نہ دینا ایمان والے اخلاق میں شامل ہے۔
- مہمان کی عزت کرنا اچھا اسلامی رویہ ہے۔
- ایمان کا اثر زبان اور معاشرت میں دکھنا چاہیے۔
