صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۴ - پڑوسی کے حقوق کی تاکید

پڑوسی کے حقوق: جبرائیل علیہ السلام کی بار بار تاکید

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۴

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَا زَالَ يُوصِينِي جِبْرِيلُ بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .

عائشہ روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں باربار اس طرح وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“

صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں پڑوسی کے حقوق کی بہت بڑی تاکید آئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک کر دیا جائے گا۔ حدیث کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ پڑوسی کا معاملہ معمولی نہیں۔ پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ، اس کی عزت، اس کی تکلیف سے بچنا، اور اس کے حق کا خیال رکھنا دین کے اخلاقی نظام کا حصہ ہے۔ یہاں وراثت کے خیال کا ذکر اس بات کو سمجھانے کے لیے ہے کہ سفارش کتنی زیادہ تھی۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ پڑوسی کے حقوق کو ہلکا نہ لیا جائے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بار بار تاکید کی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • پڑوسی کے حق کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے۔
  • پڑوسی کے ساتھ اچھا معاملہ دینی اخلاق میں شامل ہے۔
  • پڑوسی کو تکلیف دینا اس تاکید کے خلاف ہے۔
  • قریب رہنے والے لوگوں کے حقوق کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں