صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۵ - پڑوسی کا مقام اسلام میں
پڑوسی کا حق: اسلام کی مضبوط تاکید
صحیح بخاری : ۶۰۱۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۰۱۵
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ " .
ابن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جبرائیل علیہ السلام مجھے اس طرح باربار پڑوسی کے حق میں وصیت کرتے رہے کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک نہ کر دیں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۰۱۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی پڑوسی کے حقوق کی اہمیت بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے بارے میں بار بار وصیت کرتے رہے، یہاں تک کہ مجھے خیال گزرا کہ شاید پڑوسی کو وراثت میں شریک کر دیں۔ اس روایت میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہی مضمون نقل ہوا ہے۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پڑوسی کا حق صرف عام اخلاقی بات نہیں، بلکہ اس پر بار بار توجہ دلائی گئی۔ مسلمان کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے پڑوسی کے ساتھ خیر خواہی، عزت اور امن والا معاملہ رکھے۔ حدیث میں تفصیلی فہرست نہیں دی گئی، اس لیے بات کو اسی حد میں رکھنا چاہیے کہ پڑوسی کو نظر انداز کرنا یا اسے تکلیف دینا اس تاکید کے خلاف ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- پڑوسی کے حق کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
- پڑوسی کے بارے میں بار بار وصیت کی گئی۔
- اسلامی اخلاق میں قریب رہنے والوں کا خاص خیال ہے۔
- پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاؤ دینی ذمہ داری کا حصہ ہے۔
