صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۵ - سفر میں روزہ رکھنے یا چھوڑنے کا اختیار

سفر میں روزہ رکھنا یا افطار کرنا: اختیار کی حدیث

صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۵

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّهَا قَالَتْ : سَأَلَ حَمْزَةُ بْنُ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ؟ ، فَقَالَ : " إِنْ شِئْتَ فَصُمْ ، وَإِنْ شِئْتَ فَأَفْطِرْ " .

عائشہ روایت:

حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا روزے کو سفر میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہے روزہ رکھ چاہے افطار کر۔“

صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۵ کا خلاصہ

اس حدیث میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حمزہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صاف اور مختصر جواب دیا کہ چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو افطار کرو۔ اس حدیث کا اصل موضوع سفر میں روزہ کا اختیار ہے۔ یہاں لمبی بحث نہیں، بلکہ ایک آسان اصول بتایا گیا ہے کہ سفر میں آدمی اپنی حالت دیکھ سکتا ہے۔ اگر وہ روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے، اور اگر افطار کرنا چاہے تو افطار کر سکتا ہے۔ اس سے دین کی آسانی بھی سمجھ آتی ہے اور یہ بھی کہ ہر مسافر کی حالت ایک جیسی نہیں ہوتی۔ کسی کو طاقت ہوتی ہے، کسی کو تھکن یا مشقت ہوتی ہے، اس لیے حکم میں گنجائش رکھی گئی۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • سفر میں روزہ رکھنے یا افطار کرنے کی گنجائش بیان ہوئی۔
  • سوال کرنے والے کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسان جواب دیا۔
  • مسافر اپنی حالت کے مطابق عمل کر سکتا ہے۔
  • دین میں مشقت کے وقت آسانی رکھی گئی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں