صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۶ - کثرت سے روزہ رکھنے والے مسافر کا حکم
جو کثرت سے روزہ رکھتا ہو، کیا وہ سفر میں بھی روزہ رکھے؟
صحیح مسلم : ۲۶۲۶
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۶
وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ، أَنَّ حَمْزَةَ بْنَ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيَّ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ ، أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ ، قَالَ : " صُمْ إِنْ شِئْتَ ، وَأَفْطِرْ إِنْ شِئْتَ " ،
عائشہ روایت:
حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے پوچھا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ میں بہت درپے روزہ رکھتا ہوں تو کیا سفر میں بھی روزے رکھا کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چاہو رکھو چاہے نہ رکھو۔“
صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میں بہت روزے رکھتا ہوں، کیا سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ چاہو تو رکھو، چاہو تو نہ رکھو۔ یہ بات بہت اہم ہے کہ سوال کرنے والے کی عادت روزہ رکھنے کی تھی، پھر بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک ہی راستے کا پابند نہیں کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ کا معاملہ آدمی کی طاقت اور حالت کے ساتھ جڑا ہے۔ اگر کوئی روزہ رکھنے کا عادی ہے اور اسے آسانی محسوس ہوتی ہے تو وہ رکھ سکتا ہے۔ اگر نہ رکھنا چاہے تو اس کے لیے بھی گنجائش ہے۔ حدیث کا انداز نرم، واضح اور آسان ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کثرت سے روزہ رکھنے والے کو بھی سفر میں اختیار دیا گیا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کے مطابق آسان جواب دیا۔
- سفر میں ہر شخص اپنی طاقت اور حالت دیکھ سکتا ہے۔
- روزہ کی عادت رکھنے کے باوجود رخصت کی گنجائش باقی رہتی ہے۔
