صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۷ - سفر میں روزے کی تائیدی روایت
سفر میں روزہ رکھنے کے سوال کی دوسری سند
صحیح مسلم : ۲۶۲۷
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۷
وحَدَّثَنَاه يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، مِثْلَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ : إِنِّي رَجُلٌ أَسْرُدُ الصَّوْمَ ،
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۷ کا خلاصہ
یہ روایت پچھلی حدیث کے مضمون کو دوسری سند سے بیان کرتی ہے۔ اس میں بھی حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ کا ذکر ہے کہ وہ روزہ زیادہ رکھتے تھے اور سفر میں روزہ رکھنے کے بارے میں سوال سامنے آیا۔ چونکہ اس حدیث میں پوری تفصیل دوبارہ نہیں آئی بلکہ پچھلی روایت جیسا مضمون نقل ہوا ہے، اس لیے اس کا اصل فائدہ یہ ہے کہ سفر میں روزہ کے اختیار والی بات مزید مضبوط انداز میں سامنے آتی ہے۔ یہاں ہمیں یہ بھی سمجھ آتا ہے کہ حدیث کی روایت میں کبھی ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے آتا ہے، مگر پیغام وہی رہتا ہے۔ اس روایت کی بنیاد پر بات یہی ہے کہ سفر میں روزہ رکھنے یا افطار کرنے کے معاملے میں آسانی رکھی گئی، خاص طور پر ایسے شخص کے لیے جو روزہ رکھنے کا عادی ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک ہی مضمون مختلف سندوں سے بھی نقل ہو سکتا ہے۔
- سفر میں روزہ رکھنے کا سوال صحابہ کے درمیان موجود تھا۔
- روزہ کی عادت رکھنے والے کے لیے بھی سفر میں گنجائش بیان ہوئی۔
- دینی بات میں اصل متن کے مطابق ہی بات کرنی چاہیے۔
