صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۸ - روزہ دار آدمی کا سفر میں سوال
میں روزہ دار آدمی ہوں، کیا سفر میں روزہ رکھوں؟
صحیح مسلم : ۲۶۲۸
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۸
وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ كِلَاهُمَا ، عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، أَنَّ حَمْزَةَ ، قَالَ : إِنِّي رَجُلٌ أَصُومُ أَفَأَصُومُ فِي السَّفَرِ ؟ .
سیدنا حمزہ روایت:
میں ایک روزے دار آدمی ہوں تو کیا میں سفر میں بھی روزہ رکھوں؟
صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۸ کا خلاصہ
اس روایت میں حمزہ رضی اللہ عنہ کا سوال مختصر انداز میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں روزہ رکھنے والا آدمی ہوں، تو کیا سفر میں بھی روزہ رکھوں؟ حدیث کا یہ حصہ ہمیں سوال کی اصل بنیاد بتاتا ہے۔ ایک شخص جس کی طبیعت اور عادت روزے کی طرف ہے، وہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتا ہے کہ سفر میں کیا کرے۔ اس سے دینی مسئلہ پوچھنے کی اہمیت بھی معلوم ہوتی ہے۔ آدمی اپنی عادت پر اعتماد کر کے بھی پوچھ سکتا ہے کہ موجودہ حالت میں کون سا عمل مناسب ہے۔ چونکہ اس روایت میں جواب مکمل طور پر نہیں آیا، مگر اسی سند کے ساتھ دوسری روایات میں جواب موجود ہے کہ چاہو تو روزہ رکھو اور چاہو تو افطار کرو۔ اس لیے یہاں اصل توجہ سوال اور رہنمائی لینے پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اپنی عبادت کی عادت کے باوجود مسئلہ پوچھنا اچھا عمل ہے۔
- سفر میں روزہ کے بارے میں صحابہ نے براہ راست رہنمائی لی۔
- سوال مختصر ہو تو بھی اس سے اصل مسئلہ واضح ہو سکتا ہے۔
- دینی معاملات میں اندازے کے بجائے علم والوں سے پوچھنا چاہیے۔
