صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۹ - سفر میں افطار اللہ کی رخصت
سفر میں افطار رخصت ہے: چاہو تو روزہ رکھو، گناہ نہیں
صحیح مسلم : ۲۶۲۹
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۲۹
وحَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَ هَارُونُ حَدَّثَنَا ، قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ : أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ أَبِي مُرَاوِحٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَجِدُ بِي قُوَّةً عَلَى الصِّيَامِ فِي السَّفَرِ ، فَهَلْ عَلَيَّ جُنَاحٌ ؟ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " هِيَ رُخْصَةٌ مِنَ اللَّهِ ، فَمَنْ أَخَذَ بِهَا فَحَسَنٌ ، وَمَنْ أَحَبَّ أَنْ يَصُومَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ " ، قَالَ هَارُونُ فِي حَدِيثِهِ : " هِيَ رُخْصَةٌ " ، وَلَمْ يَذْكُرْ مِنَ اللَّهِ .
سیدنا حمزہ اسلمی روایت:
یا رسول اللہ! میں اپنے میں قوت پاتا ہوں روزہ کی سفر میں، تو میں اگر روزہ رکھوں تو کیا کچھ گناہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ رخصت ہے اللہ کی طرف سے سو جس نے اس کو لیا خوب کیا اور جس نے چاہا روزہ رکھنا تو اس پر گناہ نہیں۔“ اور ہارون نے اپنی روایت میں اللہ کی طرف سے ذکر نہیں کیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۲۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں حمزہ بن عمرو اسلمی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ، میں سفر میں روزہ رکھنے کی طاقت پاتا ہوں، اگر روزہ رکھوں تو کیا مجھ پر کوئی گناہ ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ رخصت ہے، جس نے اسے اختیار کیا اس نے اچھا کیا، اور جو روزہ رکھنا چاہے اس پر گناہ نہیں۔ اس حدیث میں دو باتیں بہت صاف ہیں۔ پہلی یہ کہ سفر میں افطار کرنا کوئی کمزوری یا عیب نہیں، بلکہ رخصت ہے۔ دوسری یہ کہ اگر کوئی طاقت رکھتا ہے اور روزہ رکھنا چاہتا ہے تو اس پر گناہ نہیں۔ یہاں بھی سختی نہیں بلکہ توازن ہے۔ حدیث آدمی کو اپنی حالت سمجھ کر عمل کرنے کی اجازت دیتی ہے، مگر رخصت کی قدر بھی بتاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں افطار کو رخصت کہا گیا ہے۔
- رخصت اختیار کرنے والے کے عمل کو اچھا کہا گیا۔
- طاقت رکھنے والا سفر میں روزہ رکھے تو اس پر گناہ نہیں۔
- دین میں آسانی اور اختیار دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔
