صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۰ - رمضان کے سفر میں سخت گرمی
رمضان کے سفر میں سخت گرمی اور روزہ: ابودرداء رضی اللہ عنہ کی روایت
صحیح مسلم : ۲۶۳۰
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۰
حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ ، حَتَّى إِنْ كَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَمَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .
ابودرداء روایت:
نکلے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں سخت گرمی میں یہاں تک کہ کوئی ہم میں سے اپنا ہاتھ سر پر رکھے ہوئے تھا گرمی کی سختی سے اور کوئی ہم میں سے روزہ دار نہ تھا سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۰ کا خلاصہ
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ اس حدیث میں ایک سخت گرمی والے سفر کا حال بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رمضان میں نکلے۔ گرمی اتنی شدید تھی کہ آدمی اپنا ہاتھ سر پر رکھتا تھا تاکہ گرمی سے کچھ بچ سکے۔ اس سفر میں لوگوں میں سے کوئی روزہ دار نہ تھا، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ اس حدیث میں سفر کی حقیقی مشقت صاف نظر آتی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحابہ نے سخت گرمی میں افطار کیا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔ حدیث ہمیں ایک ہی سفر میں مختلف حالتوں کا فرق دکھاتی ہے۔ اس میں کسی پر طعنہ نہیں، بس واقعہ بیان کیا گیا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سفر میں سخت گرمی ایک واقعی مشقت ہو سکتی ہے۔
- اسی سفر میں کچھ لوگ افطار کر سکتے ہیں اور کچھ روزہ رکھ سکتے ہیں۔
- حدیث میں صحابہ کی حالت کو سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
- مشکل حالات میں دین کی آسانی کو سمجھنا چاہیے۔
