صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۱ - سخت گرمی میں سفر کا روزہ
سخت گرمی کے سفر میں روزہ: صحابہ کی عملی حالت
صحیح مسلم : ۲۶۳۱
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۱
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ حَيَّانَ الدِّمَشْقِيِّ ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : قَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ : " لَقَدْ رَأَيْتُنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ ، فِي يَوْمٍ شَدِيدِ الْحَرِّ ، حَتَّى إِنَّ الرَّجُلَ لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ ، وَمَا مِنَّا أَحَدٌ صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ " .
ابودرداء روایت:
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سخت گرمیوں کے دنوں میں دیکھا بعض سفروں میں کہ لوگ سخت گرمی کی وجہ سے اپنے ہاتھوں کو اپنے سروں پر رکھ لیتے ہیں اور ہم میں سے سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی روزہ دار نہیں تھا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۱ کا خلاصہ
اس روایت میں سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کے واسطے سے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کا بیان نقل ہوا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بعض سفروں میں سخت گرمی دیکھی، یہاں تک کہ لوگ گرمی کی شدت سے اپنے ہاتھ سروں پر رکھ لیتے تھے۔ اس حالت میں ہم میں سے کوئی روزہ دار نہ تھا، سوائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے۔ اس حدیث میں سفر میں روزہ کے مسئلے کو ایک عملی منظر کے ساتھ سمجھایا گیا ہے۔ سخت گرمی، سفر کی تھکن اور لوگوں کی حالت سب سامنے آتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ افطار کرنے والوں کا عمل بھی موجود تھا اور روزہ رکھنے والوں کا عمل بھی۔ حدیث کا لہجہ کسی کو ملامت کرنے والا نہیں بلکہ حقیقت بیان کرنے والا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت گرمی میں سفر کی مشقت واضح طور پر بیان ہوئی۔
- اکثر صحابہ نے اس سفر میں روزہ نہیں رکھا۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ روزے سے تھے۔
- ایسے واقعات میں اختلاف کے بجائے واقعہ کو سمجھنا چاہیے۔
