صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۲ - عرفات میں نبی صلى الله عليه وسلم کا دودھ پینا
عرفہ کے دن نبی صلى الله عليه وسلم کے روزے پر اختلاف اور دودھ پینے کا واقعہ
صحیح مسلم : ۲۶۳۲
صحیح مسلمحدیث نمبر ۲۶۳۲
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : قَرَأْتُ عَلَى مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ عُمَيْرٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُمِّ الْفَضْلِ بِنْتِ الْحَارِثِ : " أَنَّ نَاسًا تَمَارَوْا عِنْدَهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فِي صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هُوَ صَائِمٌ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَيْسَ بِصَائِمٍ ، فَأَرْسَلْتُ إِلَيْهِ بِقَدَحِ لَبَنٍ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى بَعِيرِهِ بِعَرَفَةَ ، فَشَرِبَهُ " ،
ام الفضل روایت:
سیدہ ام الفضل رضی اللہ عنہا حارث کی بیٹی کہتی ہیں کہ ان کے پاس چند لوگوں نے تکرار کی عرفہ کے دن (عرفات میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے میں کسی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں۔ کسی نے کہا: نہیں تب انہوں نے ایک دودھ کا پیالہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں اپنے اونٹ پر وقوف کیے ہوئے تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی لیا۔
صحیح مسلم حدیث ۲۶۳۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں سیدہ ام الفضل بنت حارث رضی اللہ عنہا کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ کچھ لوگوں نے عرفہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روزے کے بارے میں اختلاف کیا۔ کسی نے کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم روزے سے ہیں، کسی نے کہا نہیں۔ اس شبہ کو ختم کرنے کے لیے ام الفضل رضی اللہ عنہا نے دودھ کا پیالہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت عرفات میں اپنے اونٹ پر وقوف کیے ہوئے تھے، پھر آپ نے دودھ پی لیا۔ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ جب لوگ کسی دینی معاملے میں الجھن میں ہوں تو واضح عمل سے بات سمجھائی جا سکتی ہے۔ یہاں بحث کے بجائے ایک عملی جواب دیا گیا، جس سے لوگوں کو معلوم ہو گیا کہ اس موقع پر آپ روزے سے نہیں تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی الجھن کو واضح عمل کے ذریعے دور کیا جا سکتا ہے۔
- صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو سمجھنے کی کوشش کی۔
- ام الفضل رضی اللہ عنہا نے شبہ دور کرنے کے لیے دودھ بھیجا۔
- عرفات کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پی کر بات واضح کر دی۔
