حدیث ۱۴۹

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۹

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَحْمُودُ بْنُ الرَّبِيعِ ، عَنْ عِتْبَانَ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ عِتْبَانَ ، فَقُلْتُ : حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكَ ، قَالَ : أَصَابَنِي فِي بَصَرِي بَعْضُ الشَّيْءِ ، فَبَعَثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنِّي أُحِبُّ أَنْ تَأْتِيَنِي فَتُصَلِّيَ فِي مَنْزِلِي ، فَأَتَّخِذَهُ مُصَلًّى ، قَالَ : فَأَتَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَمَنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِهِ ، فَدَخَلَ وَهُوَ يُصَلِّي فِي مَنْزِلِي ، وَأَصْحَابُهُ يَتَحَدَّثُونَ بَيْنَهُمْ ، ثُمَّ أَسْنَدُوا عُظْمَ ذَلِكَ ، وَكِبْرَهُ إِلَى مَالِكِ بْنِ دُخْشُمٍ ، قَالُوا : وَدُّوا أَنَّهُ دَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ ، وَوَدُّوا أَنَّهُ أَصَابَهُ شَرٌّ ، فَقَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصَّلَاةَ ، وَقَالَ : أَلَيْسَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ؟ قَالُوا : إِنَّهُ يَقُولُ ذَلِكَ وَمَا هُوَ فِي قَلْبِهِ ، قَالَ : " لَا يَشْهَدُ أَحَدٌ ، أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ ، فَيَدْخُلَ النَّارَ أَوْ تَطْعَمَهُ " ، قَالَ أَنَسٌ : فَأَعْجَبَنِي هَذَا الْحَدِيثُ ، فَقُلْتُ لِابْنِي : اكْتُبْهُ ، فَكَتَبَهُ .

‏‏‏‏ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ مجھ سے حدیث بیان کی محمود بن ربیع نے، انہوں نے سنا عتبان بن مالک سے، محمود نے کہا کہ میں مدینہ میں آیا تو عتبان سے ملا اور میں نے کہا: ایک حدیث ہے جو مجھے پہنچی ہے تم سے (تو بیان کرو اس کو) عتبان نے کہا: میری نگاہ میں فتور ہو گیا (دوسری روایت میں کہ وہ اندھے ہو گئے اور شاید ضعف بصارت مراد ہو) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ میں چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے مکان پر تشریف لا کر کسی جگہ نماز پڑھیں تاکہ میں اس جگہ کو مصلیٰ بنا لوں (یعنی ہمیشہ وہیں نماز پڑھا کروں۔ اور یہ درخواست اس لئے کہ آنکھ میں فتور ہو جانے کی وجہ سے مسجد نبوی میں ان کا آنا دشوار تھا) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور جن کو اللہ نے چاہا اپنے اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے ساتھ لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اندر آئے اور نماز پڑھنے لگے اور آپ کے اصحاب آپس میں باتیں کر رہے تھے (منافقوں کا ذکر چھڑ گیا تو ان کا حال بیان کرنے لگے اور ان کی بری باتیں اور بری عادتیں ذکر کرتے تھے) پھر انہوں نے بڑا منافق مالک بن دخشم کو کہا اور چاہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے لئے بددعا کریں وہ مر جائے اور اس پر کوئی آفت اترے (تو معلوم ہوا کہ بدکاروں کے تباہ ہونے کی آرزو کرنا برا نہیں) اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے اور فرمایا: ”کیا وہ (یعنی مالک بن دخشم) اس بات کی گواہی نہیں دیتا کہ سوا اللہ کے کوئی سچا معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں۔“ صحابہ نے عرض کیا: وہ تو اس بات کو زبان سے کہتا ہے لیکن دل میں اس کے یقین نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو گواہی دے لا الہ الا اللہ اور محمد رسول اللہ کی پھر وہ جہنم میں نہ جائے گا یا اس کو انگارے نہ کھائیں گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ حدیث مجھ کو بہت اچھی معلوم ہوئی تو میں نے اپنے بیٹے سے کہا اس کو لکھ لے، اس نے لکھ لیا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں