صحیح مسلم حدیث ۱۴۲ - لا الہ الا اللہ کی گواہی

لا الہ الا اللہ کی گواہی اور جہنم سے بچاؤ

صحیح مسلمحدیث نمبر ۱۴۲

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ ، عَنِ ابْنِ مُحَيْرِيزٍ ، عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّهُ قَالَ : دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ ، فَبَكَيْتُ ، فَقَالَ : مَهْلًا لِمَ تَبْكِي ، فَوَاللَّهِ لَئِنِ اسْتُشْهِدْتُ لَأَشْهَدَنَّ لَكَ ، وَلَئِنِ شُفِّعْتُ لَأَشْفَعَنَّ لَكَ ، وَلَئِنِ اسْتَطَعْتُ لَأَنْفَعَنَّكَ ، ثُمَّ قَالَ : وَاللَّهِ مَا مِنْ حَدِيثٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَكُمْ فِيهِ خَيْرٌ ، إِلَّا حَدَّثْتُكُمُوهُ إِلَّا حَدِيثًا وَاحِدًا ، وَسَوْفَ أُحَدِّثُكُمُوهُ الْيَوْمَ وَقَدْ أُحِيطَ بِنَفْسِي ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ النَّارَ " .

صنابحی روایت:

میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ وہ مرنے کے قریب تھے۔ میں رونے لگا۔ انہوں نے کہا: مجھ کو مہلت دو، (یعنی مجھ کو بات کرنے میں) کیوں روتا ہے؟ قسم اللہ کی اگر میں گواہ بنایا جاؤں گا تو تیرے لیے (ایمان کی) گواہی دوں گا اور اگر میری سفارش کام آئے گی تو تیری سفارش کروں گا اور اگر مجھے طاقت ہو گی تو تجھ کو فائدہ دوں گا۔ پھر کہا: اللہ کی قسم! کوئی حدیث میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہیں سنی، جس میں تمہاری بھلائی تھی مگر میں نے اس کو تم سے بیان کر دیا البتہ ایک حدیث میں نے اب تک بیان نہیں کی وہ آج بیان کرتا ہوں اس لئے کہ میری جان جانے کو ہے۔میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے:“ ”جو شخص گواہی دے (یعنی دل سے یقین کرے اور زبان سے اقرار) کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور بےشک محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں تو اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا (یعنی ہمیشہ جہنم میں رہنے کو یا جہنم کے اس طبقہ کو جس میں ہمیشہ رہنے والے کافر ڈالے جائیں گے۔

صحیح مسلم حدیث ۱۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ اپنی زندگی کے آخری وقت میں ایک حدیث بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بات انہوں نے امت کی بھلائی کے لیے سنی، اسے لوگوں تک پہنچایا۔ پھر وہ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ جو شخص گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی سچا معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اللہ تعالیٰ اس پر جہنم کو حرام کر دے گا۔ اس حدیث کا مرکزی سبق کلمہ توحید، رسالت کی گواہی اور ایمان کی بڑی قدر ہے۔ یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ صحابہ خیر والی حدیث کو چھپاتے نہیں تھے، بلکہ مناسب وقت پر امت تک پہنچاتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کلمہ توحید اور رسالت کی گواہی ایمان کی بنیاد ہے۔
  • دینی علم کو امت کی بھلائی کے لیے بیان کرنا چاہیے۔
  • صحابہ رضی اللہ عنہم حدیث پہنچانے میں بہت محتاط تھے۔
  • اللہ تعالیٰ سچے ایمان والوں کے لیے بڑی رحمت فرماتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں