صحیح مسلم حدیث ۳۷۹ - مال کی تقسیم میں نبوی حکمت

مال کی تقسیم اور دلوں کی رعایت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۷۹

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَمِّهِ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ سَعْدٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَعْطَى رَهْطًا ، وَسَعْدٌ جَالِسٌ فِيهِمْ ، قَالَ سَعْدٌ : فَتَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُعْطِهِ وَهُوَ أَعْجَبُهُمْ إِلَيَّ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ مُسْلِمًا ، قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا أَعْلَمُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَوْ مُسْلِمًا ، قَالَ : فَسَكَتُّ قَلِيلًا ، ثُمَّ غَلَبَنِي مَا عَلِمْتُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا لَكَ عَنْ فُلَانٍ ، فَوَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَاهُ مُؤْمِنًا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوْ مُسْلِمًا ، إِنِّي لَأُعْطِي الرَّجُلَ وَغَيْرُهُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْهُ ، خَشْيَةَ أَنْ يُكَبَّ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ " .

سعد بن ابی وقاص روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا اور میں وہاں بیٹھا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض کو نہیں دیا حالانکہ وہ میرے نزدیک ان سب سے بہتر تھے میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو نہیں دیا، میں تو اللہ کی قسم اس کو مومن جانتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلم۔“ پھر تھوڑی دیر میں چپ ہو رہا۔ بعد اس کے اسی خیال نے زور کیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کیوں نہیں دیا؟ اللہ کی قسم میں تو اس کو مومن جانتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلم“ پھر تھوڑی دیر میں چپ رہا بعد اس کے اسی خیال نے زور کیا اور میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ نے فلاں کو کیوں نہیں دیا؟ اللہ کی قسم! میں تو اس کو مومن جانتا ہوں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مسلم“ میں دیتا ہوں ایک شخص کو اور مجھے دوسرے سے زیادہ محبت ہوتی ہے اس ڈر سے کہ کہیں اوندھے منہ جہنم میں نہ گرے۔“

صحیح مسلم حدیث ۳۷۹ کا خلاصہ

یہ روایت اسی واقعے کو زیادہ تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کو مال دیا، اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کے نزدیک ایک شخص سب سے بہتر تھا مگر اسے نہیں دیا گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے بار بار عرض کیا کہ میں اسے مومن سمجھتا ہوں، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر بار فرمایا: مسلمان۔ پھر آپ نے فرمایا کہ میں ایک شخص کو دیتا ہوں، حالانکہ دوسرا مجھے اس سے زیادہ محبوب ہوتا ہے، اس خوف سے کہ وہ آگ میں نہ جا گرے۔ یہاں اصل سبق یہ ہے کہ دینی فیصلے صرف ظاہری پسند پر نہیں ہوتے۔ کسی کو دینا یا نہ دینا، کبھی اس کی دینی حالت اور مصلحت کے لحاظ سے بھی ہو سکتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • کسی کے باطن پر قطعی حکم لگانے میں احتیاط چاہیے۔
  • مومن اور مسلمان کے الفاظ میں فرق کا خیال رکھا گیا۔
  • مال کی تقسیم کبھی دینی مصلحت کے لیے بھی ہوتی ہے۔
  • سوال ادب اور نرمی سے کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں