صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۳ - دیت، قسم اور عدل
دیت اور قسم کی حدیث: دعوے میں احتیاط اور عدل
صحیح بخاری : ۶۱۴۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۳
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أنهما حدثاه ، أن عبد الله بن سهل ، ومحيصة بن مسعود ، أتيا خيبر فتفرقا في النخل ، فقتل عبد الله بن سهل ، فجاء عبد الرحمن بن سهل ، وحويصة ، ومحيصة ابنا مسعود إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ " قَالَ يَحْيَى : يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَسْتَحِقُّونَ قَتِيلَكُمْ أَوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمٌ كُفَّارٌ ، فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ فَدَخَلَتْ مِرْبَدًا لَهُمْ فَرَكَضَتْنِي بِرِجْلِهَا ، قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ يَحْيَى : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مَعَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرٍ ، عَنْ سَهْلٍ وَحْدَهُ .
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ روایت:
عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل وہیں قتل کر دیئے گئے۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے کی بڑائی کرو۔ (ابن سعید نے اس کا مقصد یہ) بیان کیا کہ جو بڑا ہے وہ گفتگو کرے، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی۔سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیت میں دئیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے «مع رافع بن خديج» کے الفاظ کہے تھے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور انہوں نے صرف سہل سے روایت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۳ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ عبدالرحمٰن بن سہل، حویصہ اور محیصہ نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس آئے۔ چونکہ عبدالرحمٰن کم عمر تھے، نبی صلى الله عليه وسلم نے بڑے کو بات کرنے کا موقع دینے کی ہدایت فرمائی۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے پچاس قسموں کی صورت بیان فرمائی، مگر انہوں نے کہا کہ ہم نے خود قتل ہوتے نہیں دیکھا۔ اس جواب سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ قسم کو معمولی بات نہیں سمجھتے تھے۔ پھر یہود کی قسموں کا ذکر ہوا، لیکن صحابہ نے کہا کہ وہ کافر لوگ ہیں۔ آخر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا فرمائی۔ اس روایت میں مقدمے کے آداب، قسم کی احتیاط، بڑوں کا احترام اور جھگڑے کو ختم کرنے کی عملی صورت دکھائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کم عمر شخص کو بھی بات آ سکتی ہے، مگر مجلس میں بڑوں کا ادب رکھا گیا۔
- قسم ایسی بات پر نہیں کھانی چاہیے جسے خود دیکھا نہ ہو۔
- قتل اور دیت کے معاملات میں احتیاط اور سنجیدگی ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے اپنی طرف سے دیت دے کر معاملہ حل فرمایا۔
