صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۲ - مقدمہ، قسم اور بڑوں کا ادب
بڑوں کا ادب اور مقدمے کی حدیث: پہلے بڑے کو بولنے دو
صحیح بخاری : ۶۱۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ هُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَسَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، أنهما حدثاه ، أن عبد الله بن سهل ، ومحيصة بن مسعود ، أتيا خيبر فتفرقا في النخل ، فقتل عبد الله بن سهل ، فجاء عبد الرحمن بن سهل ، وحويصة ، ومحيصة ابنا مسعود إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ ، فَبَدَأَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَبِّرِ الْكُبْرَ " قَالَ يَحْيَى : يَعْنِي لِيَلِيَ الْكَلَامَ الْأَكْبَرُ ، فَتَكَلَّمُوا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَتَسْتَحِقُّونَ قَتِيلَكُمْ أَوْ قَالَ صَاحِبَكُمْ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْكُمْ ؟ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمْرٌ لَمْ نَرَهُ قَالَ : " فَتُبْرِئُكُمْ يَهُودُ فِي أَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَوْمٌ كُفَّارٌ ، فَوَدَاهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ ، قَالَ سَهْلٌ : فَأَدْرَكْتُ نَاقَةً مِنْ تِلْكَ الْإِبِلِ فَدَخَلَتْ مِرْبَدًا لَهُمْ فَرَكَضَتْنِي بِرِجْلِهَا ، قَالَ اللَّيْثُ : حَدَّثَنِي يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرٍ ، عَنْ سَهْلٍ ، قَالَ يَحْيَى : حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ : مَعَ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ بُشَيْرٍ ، عَنْ سَهْلٍ وَحْدَهُ .
رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ روایت:
عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود خیبر سے آئے اور کھجور کے باغ میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔ عبداللہ بن سہل وہیں قتل کر دیئے گئے۔ پھر عبدالرحمٰن بن سہل اور مسعود کے دونوں بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اپنے مقتول ساتھی (عبداللہ رضی اللہ عنہ) کے مقدمہ میں گفتگو کی۔ پہلے عبدالرحمٰن نے بولنا چاہا جو سب سے چھوٹے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بڑے کی بڑائی کرو۔ (ابن سعید نے اس کا مقصد یہ) بیان کیا کہ جو بڑا ہے وہ گفتگو کرے، پھر انہوں نے اپنے ساتھی کے مقدمہ میں گفتگو کی۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے 50 آدمی قسم کھا لیں کہ عبداللہ کو یہودیوں نے مارا ہے تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم نے خود تو اسے دیکھا نہیں تھا (پھر اس کے متعلق قسم کیسے کھا سکتے ہیں؟) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر یہود اپنے پچاس آدمیوں سے قسم کھلوا کر تم سے چھٹکارا پا لیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! یہ کافر لوگ ہیں (ان کی قسم کا کیا بھروسہ) چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبداللہ بن سہل کے وارثوں کو دیت خود اپنی طرف سے ادا کر دی۔سہل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ان اونٹوں میں سے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیت میں دئیے تھے) ایک اونٹنی کو میں نے پکڑا وہ تھان میں گھس گئی، اس نے ایک لات مجھ کو لگائی۔ اور لیث نے کہا مجھ سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور ان سے سہل نے، یحییٰ نے یہاں بیان کیا کہ میں سمجھتا ہوں کہ بشیر نے «مع رافع بن خديج» کے الفاظ کہے تھے۔ اور سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے یحییٰ نے بیان کیا، ان سے بشیر نے اور انہوں نے صرف سہل سے روایت کی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے قتل کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ ان کے ساتھی نبی کریم صلى الله عليه وسلم کے پاس مقدمہ لے کر آئے۔ عبدالرحمٰن بن سہل بولنے لگے، مگر وہ سب سے چھوٹے تھے، اس لیے نبی صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: بڑے کی بڑائی کرو۔ یعنی گفتگو میں بڑے کو آگے کیا جائے۔ پھر مقدمے کے بارے میں بات ہوئی۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر تم میں سے پچاس آدمی قسم کھا لیں تو تم دیت کے مستحق ہو جاؤ گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے خود نہیں دیکھا۔ پھر یہود کی قسموں کا ذکر آیا، مگر صحابہ نے ان پر اطمینان ظاہر نہ کیا۔ آخر رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اپنی طرف سے دیت ادا کر دی۔ اس حدیث میں مجلس کا ادب، دعوے میں احتیاط، قسم کی سنجیدگی اور معاملہ حل کرنے کی کوشش سامنے آتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مجلس میں بڑوں کو بات کا موقع دینا ادب میں شامل ہے۔
- جس بات کو خود نہ دیکھا ہو اس پر قسم کھانے میں احتیاط چاہیے۔
- قتل جیسے معاملے میں دعویٰ، قسم اور حق کو سنجیدگی سے لیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے معاملہ ختم کرنے کے لیے اپنی طرف سے دیت ادا فرمائی۔
