صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۱ - مہمان نوازی اور کھانے میں برکت
مہمان نوازی اور برکت کی حدیث: ابوبکر رضی اللہ عنہ کا واقعہ
صحیح بخاری : ۶۱۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۴۱
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، " جَاءَ أَبُو بَكْرٍ بِضَيْفٍ لَهُ أَوْ بِأَضْيَافٍ لَهُ فَأَمْسَى عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا جَاءَ قَالَتْ لَهُ أُمِّي : احْتَبَسْتَ عَنْ ضَيْفِكَ أَوْ عَنْ أَضْيَافِكَ اللَّيْلَةَ ، قَالَ : مَا عَشَّيْتِهِمْ ؟ فَقَالَتْ : عَرَضْنَا عَلَيْهِ أَوْ عَلَيْهِمْ فَأَبَوْا أَوْ فَأَبَى ، فَغَضِبَ أَبُو بَكْرٍ فَسَبَّ وَجَدَّعَ وَحَلَفَ لَا يَطْعَمُهُ ، فَاخْتَبَأْتُ أَنَا ، فَقَالَ : يَا غُنْثَرُ فَحَلَفَتِ الْمَرْأَةُ لَا تَطْعَمُهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ ، فَحَلَفَ الضَّيْفُ أَوِ الْأَضْيَافُ أَنْ لَا يَطْعَمَهُ أَوْ يَطْعَمُوهُ حَتَّى يَطْعَمَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ : كَأَنَّ هَذِهِ مِنَ الشَّيْطَانِ ، فَدَعَا بِالطَّعَامِ فَأَكَلَ وَأَكَلُوا فَجَعَلُوا لَا يَرْفَعُونَ لُقْمَةً إِلَّا رَبَا مِنْ أَسْفَلِهَا أَكْثَرُ مِنْهَا ، فَقَالَ : يَا أُخْتَ بَنِي فِرَاسٍ مَا هَذَا ؟ فَقَالَتْ : وَقُرَّةِ عَيْنِي إِنَّهَا الْآنَ لَأَكْثَرُ قَبْلَ أَنْ نَأْكُلَ فَأَكَلُوا ، وَبَعَثَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ أَنَّهُ أَكَلَ مِنْهَا " .
عبدالرحمٰن بن ابی بکر روایت:
ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا ایک مہمان یا کئی مہمان لے کر گھر آئے۔ پھر آپ شام ہی سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلے گئے، جب وہ لوٹ کر آئے تو میری والدہ نے کہا کہ آج اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر آپ کہاں رہ گئے تھے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کیا تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے تو کھانا ان کے سامنے پیش کیا لیکن انہوں نے انکار کیا۔ یہ سن کر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو غصہ آیا اور انہوں نے (گھر والوں کی) سرزنش کی اور دکھ کا اظہار کیا اور قسم کھا لی کہ میں کھانا نہیں کھاؤں گا۔عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ میں تو ڈر کے مارے چھپ گیا تو آپ نے پکارا کہ اے پاجی! کدھر ہے تو ادھر آ۔ میری والدہ نے بھی قسم کھا لی کہ اگر وہ کھانا نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گی۔ اس کے بعد مہمانوں نے بھی قسم کھا لی کہ اگر ابوبکر رضی اللہ عنہ نہیں کھائیں گے تو وہ بھی نہیں کھائیں گے۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ غصہ کرنا شیطانی کام تھا، پھر آپ نے کھانا منگوایا اور خود بھی مہمانوں کے ساتھ کھایا (اس کھانے میں یہ برکت ہوئی) جب یہ لوگ ایک لقمہ اٹھاتے تو نیچے سے کھانا اور بھی بڑھ جاتا تھے۔ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے بنی فراس کی بہن! یہ کیا ہو رہا ہے، کھانا تو اور بڑھ گیا۔ انہوں نے کہا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک! اب یہ اس سے بھی زیادہ ہو گیا۔ جب ہم نے کھانا کھایا بھی نہیں تھا۔ پھر سب نے کھایا اور اس میں سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اس کھانے میں سے کھایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۴۱ کا خلاصہ
یہ روایت بھی ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مہمانوں کے بارے میں ہے۔ وہ مہمانوں کو گھر لا کر نبی صلى الله عليه وسلم کے پاس چلے گئے۔ گھر والوں نے کھانا پیش کیا مگر مہمانوں نے انتظار کیا۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ واپس آئے تو ناراض ہوئے اور کھانا نہ کھانے کی قسم کھا لی۔ پھر گھر والوں اور مہمانوں نے بھی کھانے کو ان کے کھانے سے جوڑ دیا۔ آخر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ بات شیطان کی طرف سے معلوم ہوتی ہے، پھر کھانا منگوایا، خود کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا۔ روایت میں یہ بھی بیان ہے کہ کھانا کم ہونے کے بجائے نیچے سے بڑھتا گیا، پھر اس میں سے نبی صلى الله عليه وسلم کی خدمت میں بھیجا گیا اور آپ صلى الله عليه وسلم نے بھی کھایا۔ اصل سبق مہمان نوازی، غصے سے واپسی اور اللہ کے نام کے ساتھ خیر کی طرف آنا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مہمان نوازی میں تاخیر یا غلط فہمی ہو جائے تو اسے درست کرنا چاہیے۔
- غصے کے بعد بہتر عمل کی طرف آنا پسندیدہ بات ہے۔
- روایت میں کھانے کے بڑھنے اور برکت کا ذکر موجود ہے۔
- میزبان اور مہمان دونوں کو ضد کے بجائے خیر کا راستہ لینا چاہیے۔
