صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۲ - حسان کے لیے روح القدس کی مدد
حسان بن ثابت کے لیے روح القدس کی مدد کی دعا
صحیح بخاری : ۶۱۵۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۲
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح وحَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ حَسَّانَ بْنَ ثَابِتٍ الْأَنْصَارِيَّ يَسْتَشْهِدُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، فَيَقُولُ : يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ، نَشَدْتُكَ بِاللَّهِ هَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " يَا حَسَّانُ أَجِبْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ، اللَّهُمَّ أَيِّدْهُ بِرُوحِ الْقُدُسِ " قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ : نَعَمْ " .
حسان بن ثابت انصاری روایت:
´ہم سے ابوالیمان نے بیان کیا، کہا ہم کو شعیب نے خبر دی، ان سے زہری نے (دوسری سند) امام بخاری رحمہ اللہ نے کہا اور ہم سے اسماعیل بن ابی اویس نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے بھائی عبدالحمید نے بیان کیا، ان سے سلیمان نے، ان سے محمد بن ابی عتیق نے، ان سے ابن شہاب نے، ان سے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، انہوں نے حسان بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر کہہ رہے تھے کہ` اے ابوہریرہ! میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے مشرکوں کو جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعہ ان کی مدد کر۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث کا اصل موضوع حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کا دفاعِ رسول ہے۔ حسان رضی اللہ عنہ نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو گواہ بنا کر پوچھا کہ کیا انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات سنی ہے: اے حسان! اللہ کے رسول کی طرف سے جواب دو، اے اللہ! روح القدس کے ذریعے اس کی مدد فرما۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ہاں۔ اس حدیث میں دو باتیں صاف ہیں۔ پہلی یہ کہ مشرکین کے اعتراضات کا جواب دینا اس موقع پر درست تھا۔ دوسری یہ کہ یہ جواب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے اور دعا کے ساتھ تھا۔ حسان بن ثابت حدیث میں زبان کے استعمال کی حد بھی ہے: بات دین کے دفاع کے لیے ہو، ذاتی غرور کے لیے نہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دین اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع میں حق بات کہنا اہم ہے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حسان رضی اللہ عنہ کے لیے خاص دعا فرمائی۔
- زبان کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔
