صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۴ - شعر میں حد سے بڑھنے کی ممانعت
شعر سے پیٹ بھرنے کی ممانعت والی حدیث
صحیح بخاری : ۶۱۵۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۴
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا حَنْظَلَةُ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ أَحَدِكُمْ قَيْحًا خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث کا مرکزی موضوع شعر میں حد سے بڑھ جانے کی ممانعت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھرے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ اسے شعر سے بھرے۔ حدیث کے الفاظ سخت ہیں، اس لیے بات بھی سنجیدہ ہے۔ یہاں مقصد ہر شعر کو برا کہنا نہیں، کیونکہ اسی باب کی دیگر روایات میں اچھے مضمون والے شعر کا ذکر بھی آیا ہے۔ اس خاص حدیث میں تنبیہ اس حالت پر ہے کہ آدمی شعر میں اتنا بھر جائے کہ اس کی سوچ، وقت اور دل پر وہی غالب ہو جائے۔ شعر سے پیٹ بھرنے کی حدیث کا آسان مطلب یہ ہے کہ کلام، مشغلہ یا فن انسان کو دین، ذکر اور بھلائی سے غافل نہ کرے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کسی مشغلے میں اس قدر غرق نہیں ہونا چاہیے کہ اصل دین پیچھے رہ جائے۔
- شعر یا کلام کی کثرت اگر دل پر غالب ہو جائے تو خطرہ ہے۔
- حدیث کے سخت الفاظ غفلت سے بچانے کے لیے ہیں۔
