صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۵ - شعروں سے دل بھرنے پر تنبیہ
شعروں سے بھر جانے پر نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی تنبیہ
صحیح بخاری : ۶۱۵۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۵۵
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَأَنْ يَمْتَلِئَ جَوْفُ رَجُلٍ قَيْحًا يَرِيهِ خَيْرٌ مِنْ أَنْ يَمْتَلِئَ شِعْرًا " .
اعمش روایت:
میں نے ابوصالح سے سنا اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ”اگر تم میں سے کوئی شخص اپنا پیٹ پیپ سے بھر لے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۱۵۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی شعر سے پیٹ بھرنے کی تنبیہ بیان کرتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ شعروں سے بھر جائے۔ سادہ الفاظ میں یہ حدیث بتاتی ہے کہ انسان کا دل اور وقت کسی ایسی چیز سے نہ بھر جائے جو اسے فائدہ مند علم، عبادت اور اچھے عمل سے دور کر دے۔ اس متن میں اصل زور شعر کی کثرت اور غلبے پر ہے، نہ کہ ہر اچھے شعر کی نفی پر۔ اس لیے شعر کی ممانعت حدیث کو سمجھتے وقت اسی خاص لفظ پر توجہ ضروری ہے: بھر جانا۔ یعنی دل پر اسی کا قبضہ ہو جانا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دل اور وقت کو بے فائدہ کلام سے بھر لینا نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
- حدیث میں شعر کے غلبے پر سخت تنبیہ کی گئی ہے۔
- آدمی کو اپنے مشاغل میں دینی توازن رکھنا چاہیے۔
