صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۲ - ابن صیاد کا امتحان

ابن صیاد کا واقعہ: چھپی ہوئی بات کا امتحان

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۷۲

حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ زَرِيرٍ ، سَمِعْتُ أَبَا رَجَاءٍ ، سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِابْنِ صَائِدٍ : " قَدْ خَبَأْتُ لَكَ خَبِيئًا ، فَمَا هُوَ ؟ " قَالَ : الدُّخُّ ، قَالَ : " اخْسَأْ " .

ابن عباس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا ”میں نے اس وقت اپنے دل میں ایک بات چھپا رکھی ہے، وہ کیا ہے؟“ وہ بولا «الدخ.» نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا چل دور ہو جا۔

صحیح بخاری حدیث ۶۱۷۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع ابن صیاد کا امتحان ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد سے فرمایا کہ میں نے تمہارے لیے ایک بات اپنے دل میں چھپا رکھی ہے، بتاؤ وہ کیا ہے؟ اس نے الدخ کہا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ دور ہو جا۔ اس روایت میں تفصیل کم ہے، اس لیے اس سے زیادہ بات بڑھانا درست نہیں۔ یہاں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک آزمائش کے طور پر سوال کیا اور اس کے جواب پر اسے جھڑک دیا۔ ابن صیاد کی حدیث، الدخ حدیث، اور خفیہ بات کے امتحان کے موضوع پر یہ روایت مختصر مگر اہم ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ہر دعویٰ یا عجیب بات کو پرکھا جا سکتا ہے۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن صیاد کو اس کی حد بتائی۔
  • مختصر روایت سے غیر ضروری تفصیل نہیں نکالنی چاہیے۔
  • ایسے واقعات میں احتیاط اور متن کی پابندی ضروری ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں