صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۴ - سعد رضی اللہ عنہ کی فضیلت
سعد رضی اللہ عنہ کی فضیلت: تیر مارو، میرے ماں باپ تم پر قربان
صحیح بخاری : ۶۱۸۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۱۸۴
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا غَيْرَ سَعْدٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ : ارْمِ فَدَاكَ أَبِي وَأُمِّي أَظُنُّهُ يَوْمَ أُحُدٍ " .
علی روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کے لیے اپنے آپ کو قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا، سوا سعد بن ابی وقاص کے۔ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے۔ تیر مار، اے سعد! میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، میرا خیال ہے کہ یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۱۸۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کسی کے لیے اپنے ماں باپ قربان کرنے کا لفظ کہتے نہیں سنا، سوائے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے۔ پھر انہوں نے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے کہ تیر مارو، اے سعد، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں۔ راوی کا خیال ہے کہ یہ غزوہ احد کے موقع پر فرمایا گیا۔ اس حدیث کا موضوع سعد رضی اللہ عنہ کی فضیلت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے خاص حوصلہ افزائی ہے۔ اس میں جنگی موقع کا ذکر ہے، مگر اصل متن اسی جملے اور سعد رضی اللہ عنہ کی خصوصیت پر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو خاص حوصلہ افزائی ملی۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں تیر چلانے کا حکم دیا۔
- صحابہ کی فضیلت ان روایات سے معلوم ہوتی ہے۔
- راوی نے اپنے علم کے مطابق اس لفظ کی خصوصیت بیان کی۔
