صحیح بخاری حدیث ۶۲ - کھجور کا درخت اور مسلمان کی مثال
کھجور کا درخت: مسلمان کی خوبصورت مثال
صحیح بخاری : ۶۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ ، حَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ قَالَ : فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ فَاسْتَحْيَيْتُ ، ثُمَّ قَالُوا : حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : هِيَ النَّخْلَةُ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
ایک مرتبہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا درختوں میں سے ایک درخت ایسا ہے کہ اس کے پتے نہیں جھڑتے اور مسلمان کی بھی یہی مثال ہے بتلاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ یہ سن کر لوگوں کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔عبداللہ نے کہا کہ میرے دل میں آیا کہ بتلا دوں کہ وہ کھجور کا درخت ہے لیکن (وہاں بہت سے بزرگ موجود تھے اس لیے) مجھ کو شرم آئی۔ آخر صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ہی بیان فرما دیجیئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتلایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے پوچھا کہ ایک ایسا درخت ہے جس کے پتے نہیں جھڑتے، اور مسلمان کی مثال بھی اسی جیسی ہے، بتاؤ وہ کون سا درخت ہے؟ صحابہ کے خیالات جنگل کے درختوں میں چلے گئے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے دل میں آیا کہ وہ کھجور کا درخت ہے، لیکن بزرگ صحابہ کی موجودگی میں انہیں شرم آئی، اس لیے خاموش رہے۔ آخر صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ہی بتا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ کھجور کا درخت ہے۔ اس حدیث میں مسلمان کی مثال کو آسان انداز میں سمجھایا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ دینی تعلیم میں سوال و جواب کا طریقہ بہت مؤثر ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- دینی بات سمجھانے کے لیے مثال دینا بہترین طریقہ ہے۔
- صحابہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بات پوچھنے میں ادب کرتے تھے۔
- کم عمر طالب علم بھی صحیح جواب سمجھ سکتا ہے۔
- مسلمان کی مثال ایسے درخت سے دی گئی جو اپنی حالت پر قائم رہتا ہے۔
