صحیح بخاری حدیث ۶۳ - ضمام بن ثعلبہ اور دین کے بنیادی سوالات

ضمام بن ثعلبہ کے سوالات اور دین کی بنیادی باتیں

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ سَعِيدٍ هُوَ الْمَقْبُرِيُّ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِك ، يَقُولُ : " بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَسْجِدِ ، دَخَلَ رَجُلٌ عَلَى جَمَلٍ فَأَنَاخَهُ فِي الْمَسْجِدِ ، ثُمَّ عَقَلَهُ ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ : أَيُّكُمْ مُحَمَّدٌ ؟ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَّكِئٌ بَيْنَ ظَهْرَانَيْهِمْ ، فَقُلْنَا : هَذَا الرَّجُلُ الْأَبْيَضُ الْمُتَّكِئُ ، فَقَالَ لَهُ الرَّجُلُ : يَا ابْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : قَدْ أَجَبْتُكَ ، فَقَالَ الرَّجُلُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنِّي سَائِلُكَ ، فَمُشَدِّدٌ عَلَيْكَ فِي الْمَسْأَلَةِ فَلَا تَجِدْ عَلَيَّ فِي نَفْسِكَ ، فَقَالَ : سَلْ عَمَّا بَدَا لَكَ ، فَقَالَ : أَسْأَلُكَ بِرَبِّكَ وَرَبِّ مَنْ قَبْلَكَ ، آللَّهُ أَرْسَلَكَ إِلَى النَّاسِ كُلِّهِمْ ؟ فَقَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نُصَلِّيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ فِي الْيَوْمِ وَاللَّيْلَةِ ؟ قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ نَصُومَ هَذَا الشَّهْرَ مِنَ السَّنَةِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكَ بِاللَّهِ ، آللَّهُ أَمَرَكَ أَنْ تَأْخُذَ هَذِهِ الصَّدَقَةَ مِنْ أَغْنِيَائِنَا فَتَقْسِمَهَا عَلَى فُقَرَائِنَا ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ الرَّجُلُ : آمَنْتُ بِمَا جِئْتَ بِهِ ، وَأَنَا رَسُولُ مَنْ وَرَائِي مِنْ قَوْمِي ، وَأَنَا ضِمَامُ بْنُ ثَعْلَبَةَ أَخُو بَنِي سَعْدِ بْنِ بَكْرٍ " ، وَرَوَاهُ مُوسَى ، وَعَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا .

انس بن مالک روایت:

ایک بار ہم مسجد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک شخص اونٹ پر سوار ہو کر آیا اور اونٹ کو مسجد میں بٹھا کر باندھ دیا۔ پھر پوچھنے لگا (بھائیو) تم لوگوں میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) کون سے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں میں تکیہ لگائے بیٹھے ہوئے تھے۔ ہم نے کہا () محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) یہ سفید رنگ والے بزرگ ہیں جو تکیہ لگائے ہوئے تشریف فرما ہیں۔تب وہ آپ سے مخاطب ہوا کہ اے عبدالمطلب کے فرزند! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ کہو میں آپ کی بات سن رہا ہوں۔ وہ بولا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ دینی باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں اور ذرا سختی سے بھی پوچھوں گا تو آپ اپنے دل میں برا نہ مانئے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں جو تمہارا دل چاہے پوچھو۔تب اس نے کہا کہ میں آپ کو آپ کے رب اور اگلے لوگوں کے رب تبارک وتعالیٰ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ کو اللہ نے دنیا کے سب لوگوں کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ! پھر اس نے کہا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دیتا ہوں کیا اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات دن میں پانچ نمازیں پڑھنے کا حکم فرمایا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ! پھر کہنے لگا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ سال بھر میں اس مہینہ رمضان کے روزے رکھو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ! پھر کہنے لگا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ نے آپ کو یہ حکم دیا ہے کہ آپ ہم میں سے جو مالدار لوگ ہیں ان سے زکوٰۃ وصول کر کے ہمارے محتاجوں میں بانٹ دیا کریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں یا میرے اللہ!تب وہ شخص کہنے لگا جو حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے پاس سے لائے ہیں، میں ان پر ایمان لایا اور میں اپنی قوم کے لوگوں کا جو یہاں نہیں آئے ہیں بھیجا ہوا (تحقیق حال کے لیے) آیا ہوں۔ میرا نام ضمام بن ثعلبہ ہے، میں بنی سعد بن بکر کے خاندان سے ہوں۔اس حدیث کو (لیث کی طرح) موسیٰ اور علی بن عبدالحمید نے سلیمان سے روایت کیا، انہوں نے ثابت سے، انہوں نے انس سے، انہوں نے یہی مضمون نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳ کا خلاصہ

اس حدیث میں ضمام بن ثعلبہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ بیان ہوا ہے۔ وہ اپنی قوم کی طرف سے تحقیق کے لیے آئے۔ انہوں نے پہلے پوچھا کہ تم لوگوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون ہیں؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت کے انداز میں کہا کہ میں سختی سے سوال کروں گا، آپ ناراض نہ ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو چاہو پوچھو۔ انہوں نے اللہ کی قسم دے کر رسالت، پانچ نمازوں، رمضان کے روزوں اور زکوٰۃ کے بارے میں سوال کیا۔ ہر سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تصدیق فرمائی۔ پھر ضمام بن ثعلبہ نے کہا کہ جو کچھ آپ اللہ کی طرف سے لائے ہیں، میں اس پر ایمان لایا۔ اس حدیث سے دین کے بنیادی ارکان، سوال کر کے علم حاصل کرنے اور تحقیق کے بعد ایمان قبول کرنے کی اہمیت سامنے آتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دین کی بات سمجھنے کے لیے سوال کرنا درست ہے۔
  • پانچ نمازیں، رمضان کے روزے اور زکوٰۃ دین کی بنیادی باتوں میں شامل ہیں۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سخت سوالات پر بھی تحمل سے جواب دیا۔
  • ضمام بن ثعلبہ اپنی قوم کی طرف سے تحقیق کے لیے آئے تھے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں