صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۰ - کنکری پھینکنے کی ممانعت
کنکری پھینکنے کی حدیث: بے فائدہ کھیل سے نقصان کا اندیشہ
صحیح بخاری : ۶۲۲۰
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۲۰
حَدَّثَنَا آدَمُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ صُهْبَانَ الْأَزْدِيَّ يُحَدِّثُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ ، قَالَ : نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْخَذْفِ ، وَقَالَ : " إِنَّهُ لَا يَقْتُلُ الصَّيْدَ ، وَلَا يَنْكَأُ الْعَدُوَّ ، وَإِنَّهُ يَفْقَأُ الْعَيْنَ وَيَكْسِرُ السِّنَّ " .
عبداللہ بن مغفل مزنی روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع کیا تھا اور فرمایا تھا کہ وہ نہ شکار مار سکتی ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، البتہ آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکری پھینکنے سے منع فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وجہ بھی بیان فرمائی کہ یہ نہ شکار مار سکتی ہے اور نہ دشمن کو کوئی نقصان پہنچا سکتی ہے، البتہ آنکھ پھوڑ سکتی ہے اور دانت توڑ سکتی ہے۔ اس حدیث کا پیغام بہت سادہ ہے: ایسا کام جس کا فائدہ نہ ہو اور نقصان کا امکان ہو، اس سے بچنا چاہیے۔ کنکری پھینکنا بظاہر معمولی کھیل لگ سکتا ہے، مگر حدیث نے اس کے ممکنہ نقصان کو واضح کیا۔ اسلام میں دوسروں کی آنکھ، دانت اور جسمانی سلامتی کا خیال رکھنا ادب اور ذمہ داری کا حصہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایسے کھیل یا حرکت سے بچنا چاہیے جس سے کسی کو جسمانی نقصان پہنچ سکتا ہو۔
- کنکری پھینکنے میں فائدہ کم اور نقصان کا خطرہ زیادہ بتایا گیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے ممانعت کے ساتھ وجہ بھی بیان فرمائی۔
- آنکھ اور دانت جیسے اعضاء کو نقصان سے بچانا ضروری ہے۔
