صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۹ - بدگمانی سے بچاؤ
بدگمانی سے بچنے کی حدیث: صفیہ رضی اللہ عنہا والی روایت
صحیح بخاری : ۶۲۱۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۱۹
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ . ح حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَخِي ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ حُيَيٍّ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَخْبَرَتْهُ " أَنَّهَا جَاءَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَزُورُهُ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ فِي الْمَسْجِدِ فِي الْعَشْرِ الْغَوَابِرِ مِنْ رَمَضَانَ ، فَتَحَدَّثَتْ عِنْدَهُ سَاعَةً مِنَ الْعِشَاءِ ، ثُمَّ قَامَتْ تَنْقَلِبُ ، فَقَامَ مَعَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْلِبُهَا ، حَتَّى إِذَا بَلَغَتْ باب الْمَسْجِدِ الَّذِي عِنْدَ مَسْكَنِ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، مَرَّ بِهِمَا رَجُلَانِ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَسَلَّمَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ نَفَذَا ، فَقَالَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : عَلَى رِسْلِكُمَا ، إِنَّمَا هِيَ صَفِيَّةُ بِنْتُ حُيَيٍّ ، قَالَا : سُبْحَانَ اللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَكَبُرَ عَلَيْهِمَا مَا قَالَ : إِنَّ الشَّيْطَانَ يَجْرِي مِنَ ابْنِ آدَمَ مَبْلَغَ الدَّمِ ، وَإِنِّي خَشِيتُ أَنْ يَقْذِفَ فِي قُلُوبِكُمَا " .
امام زین العابدین علی بن حسین روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ملنے آئیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کئے ہوئے تھے۔ عشاء کے وقت تھوڑی دیر انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں کیں اور واپس لوٹنے کے لیے اٹھیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہیں چھوڑ آنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔جب وہ مسجد کے اس دروازہ کے پاس پہنچیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا، تو ادھر سے دو انصاری صحابی گزرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور آگے بڑھ گئے۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ تھوڑی دیر کے لیے ٹھہر جاؤ۔ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ ان دونوں صحابہ نے عرض کیا: سبحان اللہ، یا رسول اللہ۔ ان پر بڑا شاق گزرا۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا رہتا ہے، اس لیے مجھے خوف ہوا کہ کہیں وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۱۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں صفیہ بنت حی رضی اللہ عنہا کا واقعہ ہے۔ وہ رمضان کے آخری عشرے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملنے آئیں، جب آپ مسجد میں اعتکاف میں تھے۔ عشاء کے وقت انہوں نے کچھ دیر بات کی، پھر واپس جانے لگیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں چھوڑنے کے لیے ساتھ کھڑے ہوئے۔ راستے میں دو انصاری صحابی گزرے، سلام کیا اور آگے بڑھنے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ٹھہرایا اور فرمایا کہ یہ صفیہ بنت حی میری بیوی ہیں۔ صحابہ کو یہ بات بھاری لگی، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اندر خون کی طرح دوڑتا ہے، مجھے اندیشہ ہوا کہ وہ تمہارے دل میں کوئی شبہ نہ ڈال دے۔ اس حدیث کا موضوع بدگمانی سے بچاؤ اور صاف وضاحت ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایسی صورت میں وضاحت کر دینا درست ہے جہاں غلط خیال پیدا ہو سکتا ہو۔
- شیطان دل میں شبہ ڈال سکتا ہے، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے صحابہ کے دلوں کی حفاظت کے لیے بات واضح فرمائی۔
- اعتکاف کے دوران صفیہ رضی اللہ عنہا کا ملنا اسی روایت میں بیان ہوا ہے۔
