صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۲ - سات احکام اور سات ممانعتیں
سات احکام اور سات ممانعتیں: مسلمان کے معاشرتی آداب
صحیح بخاری : ۶۲۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۲۲۲
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ سُلَيْمٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسَبْعٍ وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ : أَمَرَنَا بِعِيَادَةِ الْمَرِيضِ ، وَاتِّبَاعِ الْجِنَازَةِ ، وَتَشْمِيتِ الْعَاطِسِ ، وَإِجَابَةِ الدَّاعِي ، وَرَدِّ السَّلَامِ ، وَنَصْرِ الْمَظْلُومِ ، وَإِبْرَارِ الْمُقْسِمِ . وَنَهَانَا عَنْ سَبْعٍ : عَنْ خَاتَمِ الذَّهَبِ أَوْ قَالَ حَلْقَةِ الذَّهَبِ ، وَعَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ ، وَالدِّيبَاجِ ، وَالسُّنْدُسِ ، وَالْمَيَاثِرِ " .
براء روایت:
ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا تھا اور سات کاموں سے روکا تھا، ہمیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیمار کی مزاج پرسی کرنے، جنازہ کے پیچھے چلنے، چھینکنے والے کے جواب دینے، دعوت کرنے والے کی دعوت قبول کرنے، سلام کا جواب دینے، مظلوم کی مدد کرنے اور قسم کھا لینے والے کی قسم پوری کرنے میں مدد دینے کا حکم دیا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سات کاموں سے روکا تھا، سونے کی انگوٹھی سے، یا بیان کیا کہ سونے کے چھلے سے، ریشم اور دیبا اور سندس (دیبا سے باریک ریشمی کپڑا) پہننے سے اور ریشمی زین سے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۲۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں براء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سات باتوں کا حکم دیا اور سات چیزوں سے منع فرمایا۔ حکم دی گئی باتوں میں بیمار کی عیادت، جنازے کے پیچھے چلنا، چھینکنے والے کو جواب دینا، دعوت قبول کرنا، سلام کا جواب دینا، مظلوم کی مدد کرنا اور قسم کھانے والے کی قسم پوری کرانے میں مدد دینا شامل ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سونے کی انگوٹھی یا چھلے، ریشم، دیبا، سندس اور ریشمی زین جیسی چیزوں سے منع فرمایا۔ یہ حدیث معاشرتی حقوق اور ظاہری آداب دونوں کو جمع کرتی ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمان کی زندگی میں دوسروں کے حقوق، سلام، عیادت، جنازہ اور مظلوم کی مدد بہت اہم عملی کام ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مسلمان کو بیمار کی عیادت اور جنازے میں شرکت کا اہتمام کرنا چاہیے۔
- سلام کا جواب دینا اور دعوت قبول کرنا معاشرتی آداب میں شامل ہے۔
- مظلوم کی مدد کرنا حدیث میں واضح حکم کے طور پر آیا ہے۔
- حدیث میں کچھ خاص لباس اور زینت کی چیزوں سے منع کیا گیا ہے۔
