صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۵ - خواب گاہ کی دعا
خواب گاہ میں جانے کی دعا: اللہ کے نام سے سونا
صحیح بخاری : ۶۳۲۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۵
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ خَرَشَةَ بْنِ الحُرِّ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَخَذَ مَضْجَعَهُ مِنَ اللَّيْلِ ، قَالَ : اللَّهُمَّ بِاسْمِكَ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، فَإِذَا اسْتَيْقَظَ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
ابوذر غفاری روایت:
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں اپنی خواب گاہ پر جاتے تو کہتے «اللهم باسمك أموت وأحيا» ”اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو فرماتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور".» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو جانا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلى الله عليه وسلم کا رات کا ذکر بیان کیا ہے۔ جب رسول اللہ صلى الله عليه وسلم رات میں اپنی خواب گاہ پر جاتے تو فرماتے: اللهم باسمك أموت وأحيا۔ یعنی اے اللہ! میں تیرے ہی نام سے مرتا ہوں اور تیرے ہی نام سے زندہ ہوتا ہوں۔ پھر جب بیدار ہوتے تو فرماتے: الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور۔ اس دعا میں نیند، بیداری، حمد اور اللہ کی طرف واپسی سب شامل ہیں۔ یہ مختصر ذکر بندے کو یاد دلاتا ہے کہ رات کا آرام بھی اللہ کے نام سے ہو اور صبح کا آغاز بھی شکر سے ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- خواب گاہ میں جاتے وقت اللہ کا نام لینا چاہیے۔
- صبح اٹھ کر اللہ کی حمد کرنا مسنون عمل ہے۔
- نیند اور بیداری دونوں اللہ کے قبضے میں ہیں۔
- مختصر اذکار روزمرہ زندگی کو عبادت سے جوڑتے ہیں۔
