صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۴ - نیند اور بیداری کی دعا
نیند اور بیداری کی دعا: موت کے بعد زندگی کا خیال
صحیح بخاری : ۶۳۲۴
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۴
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ حُذَيْفَةَ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ ، قَالَ : بِاسْمِكَ اللَّهُمَّ أَمُوتُ وَأَحْيَا ، وَإِذَا اسْتَيْقَظَ مِنْ مَنَامِهِ ، قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أَمَاتَنَا وَإِلَيْهِ النُّشُورُ " .
حذیفہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب سونے کا ارادہ کرتے تو کہتے «باسمك اللهم أموت وأحيا» ”تیرے نام کے ساتھ، اے اللہ! میں مرتا اور تیرے ہی نام سے جیتا ہوں۔“ اور جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے «الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا، وإليه النشور» ”تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی بخشی اور اسی کی طرف ہم کو لوٹنا ہے۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں نبی کریم صلى الله عليه وسلم کی وہ دعا بیان ہوئی ہے جو آپ سونے کا ارادہ کرتے وقت پڑھتے تھے: باسمك اللهم أموت وأحيا۔ یعنی اے اللہ! تیرے نام کے ساتھ میں مرتا اور زندہ ہوتا ہوں۔ پھر جب آپ بیدار ہوتے تو فرماتے: الحمد لله الذي أحيانا بعد ما أماتنا وإليه النشور۔ اس میں اللہ کی حمد ہے، نیند کے بعد بیداری کو زندگی سے تشبیہ ہے، اور آخر میں اللہ کی طرف لوٹنے کا اقرار ہے۔ یہ حدیث روزانہ کی نیند کو بھی ایمان، شکر اور آخرت کی یاد سے جوڑتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سونے سے پہلے اللہ کے نام کا ذکر کرنا چاہیے۔
- بیدار ہونے پر اللہ کی حمد ادا کی جائے۔
- نیند انسان کو موت اور بیداری کو زندگی یاد دلاتی ہے۔
- ہر صبح اللہ کی طرف لوٹنے کا خیال تازہ کیا جا سکتا ہے۔
