صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۳ - سب سے عمدہ استغفار
سب سے عمدہ استغفار: گناہ مان کر مغفرت مانگنا
صحیح بخاری : ۶۳۲۳
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۳
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ عَنْ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «سَيِّدُ الاِسْتِغْفَارِ اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لاَ إِلَهَ إِلاَّ أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ، وَأَبُوءُ لَكَ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي، فَإِنَّهُ لاَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلاَّ أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ. إِذَا قَالَ حِينَ يُمْسِي فَمَاتَ دَخَلَ الْجَنَّةَ- أَوْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ- وَإِذَا قَالَ حِينَ يُصْبِحُ فَمَاتَ مِنْ يَوْمِهِ». مِثْلَهُ.
شداد بن اوس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے عمدہ استغفار یہ ہے «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت، خلقتني وأنا عبدك، وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت، أبوء لك بنعمتك، وأبوء لك بذنبي، فاغفر لي، فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، أعوذ بك من شر ما صنعت.» ”اے اللہ! تو میرا پالنے والا ہے تیرے سوا کوئی معبود نہیں تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں اور میں تیرے عہد پر قائم ہوں اور تیرے وعدہ پر۔ جہاں تک مجھ سے ممکن ہے۔ تیری نعمت کا طالب ہو کر تیری پناہ میں آتا ہوں اور اپنے گناہوں سے تیری پناہ چاہتا ہوں، پس تو میری مغفرت فرما کیونکہ تیرے سوا گناہ اور کوئی نہیں معاف کرتا۔ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اپنے برے کاموں سے۔اگر کسی نے رات ہوتے ہی یہ کہہ لیا اور اسی رات اس کا انتقال ہو گیا تو وہ جنت میں جائے گا۔ یا (فرمایا کہ) وہ اہل جنت میں ہو گا اور اگر یہ دعا صبح کے وقت پڑھی اور اسی دن اس کی وفات ہو گئی تو بھی ایسا ہی ہو گا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں سب سے عمدہ استغفار کے الفاظ بیان کیے گئے ہیں۔ بندہ کہتا ہے: اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا کیا اور میں تیرا بندہ ہوں۔ پھر وہ اپنی طاقت کے مطابق اللہ کے عہد اور وعدے پر قائم رہنے کا ذکر کرتا ہے۔ اس کے بعد اللہ کی نعمت کا اقرار کرتا ہے، اپنے گناہ کو مانتا ہے، اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہے، کیونکہ گناہ صرف اللہ ہی معاف کرتا ہے۔ اس روایت میں صبح اور شام اس دعا کے پڑھنے کی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ یہ دعا بندے کو عاجزی، شکر اور توبہ تینوں سکھاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغفرت مانگتے وقت اللہ کی توحید کا اقرار کیا گیا ہے۔
- بندہ اپنی کمزوری اور گناہ کو اللہ کے سامنے مانے۔
- نعمت کا اقرار اور گناہ کا اقرار دونوں اس دعا میں ہیں۔
- صبح و شام استغفار کا معمول رکھنا چاہیے۔
