صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۲ - بیت الخلا میں داخل ہونے کی دعا
بیت الخلا کی دعا: اللہ کی پناہ مانگنے کا مسنون عمل
صحیح بخاری : ۶۳۲۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۲
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَرْعَرَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ الْخَلَاءَ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ " .
انس روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت الخلاء جاتے تو یہ دعا پڑھتے «اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث» ”اے اللہ! میں خبیث جنوں اور جنیوں کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے کی دعا بیان ہوئی ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلى الله عليه وسلم جب بیت الخلا جاتے تو فرماتے: اللهم إني أعوذ بك من الخبث والخبائث۔ ترجمہ یہ ہے کہ اے اللہ! میں خبیث جنوں اور جنیوں کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔ اس حدیث کا موضوع بہت واضح ہے: ایسے مقام پر جانے سے پہلے اللہ کی پناہ مانگنا۔ یہ دعا مختصر ہے، یاد کرنے میں آسان ہے، اور روزمرہ زندگی کے ایک عام عمل کو بھی اللہ کی یاد سے جوڑ دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- بیت الخلا میں داخل ہونے سے پہلے اللہ کی پناہ مانگنی چاہیے۔
- دعا مختصر ہو تو بھی اس کا معنی بہت اہم ہو سکتا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے روزمرہ کاموں میں بھی دعا سکھائی۔
- شر سے حفاظت صرف اللہ سے مانگی جاتی ہے۔
