صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۱ - رات کے آخری تہائی حصے کی دعا

رات کا آخری تہائی حصہ: دعا، سوال اور استغفار

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۲۱

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْأَغَرِّ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : يَتَنَزَّلُ رَبُّنَا تَبَارَكَ وَتَعَالَى كُلَّ لَيْلَةٍ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا حِينَ يَبْقَى ثُلُثُ اللَّيْلِ الْآخِرُ يَقُولُ : " مَنْ يَدْعُونِي فَأَسْتَجِيبَ لَهُ ، مَنْ يَسْأَلُنِي فَأُعْطِيَهُ ، مَنْ يَسْتَغْفِرُنِي فَأَغْفِرَ لَهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب تبارک و تعالیٰ ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، اس وقت جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے اور فرماتا ہے کون ہے جو مجھ سے دعا کرتا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کروں، کون ہے جو مجھ سے مانگتا ہے کہ میں اسے دوں، کون ہے جو مجھ سے بخشش طلب کرتا ہے کہ میں اس کی بخشش کروں۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۲۱ کا خلاصہ

اس حدیث میں رات کے آخری تہائی حصے کی بڑی فضیلت بیان ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ ہمارا رب ہر رات آسمان دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے، جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے، اور فرماتا ہے: کون ہے جو مجھ سے دعا کرے کہ میں اس کی دعا قبول کروں؟ کون ہے جو مجھ سے مانگے کہ میں اسے دوں؟ کون ہے جو مجھ سے بخشش مانگے کہ میں اسے بخش دوں؟ اس حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ رات کا آخری حصہ دعا، مانگنے اور استغفار کے لیے خاص وقت ہے۔ بندہ اس وقت اللہ سے اپنی حاجت اور مغفرت مانگے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • رات کا آخری تہائی حصہ دعا کے لیے خاص وقت بتایا گیا ہے۔
  • اللہ سے مانگنا بندے کی محتاجی کا اقرار ہے۔
  • استغفار کو رات کے وقت بھی معمول بنانا چاہیے۔
  • دعا، سوال اور مغفرت تینوں اس حدیث میں جمع ہیں۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں