صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۲ - بارش کی دعا

بارش کی دعا: اللهم حوالينا ولا علينا کا مطلب

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۴۲

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : بَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَسْقِيَنَا ، فَتَغَيَّمَتِ السَّمَاءُ وَمُطِرْنَا حَتَّى مَا كَادَ الرَّجُلُ يَصِلُ إِلَى مَنْزِلِهِ ، فَلَمْ تَزَلْ تُمْطَرُ إِلَى الْجُمُعَةِ الْمُقْبِلَةِ ، فَقَامَ ذَلِكَ الرَّجُلُ أَوْ غَيْرُهُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَصْرِفَهُ عَنَّا فَقَدْ غَرِقْنَا ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ حَوَالَيْنَا وَلَا عَلَيْنَا ، فَجَعَلَ السَّحَابُ يَتَقَطَّعُ حَوْلَ الْمَدِينَةِ ، وَلَا يُمْطِرُ أَهْلَ الْمَدِينَةِ " .

انس روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا کہ یا رسول اللہ! اللہ سے دعا فرما دیجئیے کہ ہمارے لیے بارش برسائے (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی) اور آسمان پر بادل چھا گیا اور بارش برسنے لگی، یہ حال ہو گیا کہ ہمارے لیے گھر تک پہنچنا مشکل تھا۔یہ بارش اگلے جمعہ تک ہوتی رہی پھر وہی صحابی یا کوئی دوسرے صحابی اس دوسرے جمعہ کو کھڑے ہوئے اور کہا کہ اللہ سے دعا فرمائیے کہ اب بارش بند کر دے ہم تو ڈوب گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے چاروں طرف بستیوں کو سیراب کر اور ہم پر بارش بند کر دے۔ چنانچہ بادل ٹکڑے ہو کر مدینہ کے چاروں طرف بستیوں میں چلا گیا اور مدینہ والوں پر بارش رک گئی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۳۴۲ کا خلاصہ

اس حدیث کا اصل موضوع بارش کی دعا ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے، ایک شخص نے عرض کیا کہ اللہ سے دعا فرمائیں کہ ہمارے لیے بارش برسائے۔ دعا کے بعد بادل چھا گیا اور بارش شروع ہوئی، یہاں تک کہ گھروں تک پہنچنا مشکل ہو گیا۔ اگلے جمعہ ایک شخص نے عرض کیا کہ اب دعا کریں بارش ہم سے ہٹ جائے، کیونکہ ہم ڈوب گئے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی: اے اللہ! ہمارے اردگرد برسا، ہم پر نہیں۔ پھر بادل مدینہ کے اردگرد چلا گیا اور مدینہ پر بارش رک گئی۔ اس میں ضرورت کے وقت دعا اور نقصان سے بچنے کی دعا دونوں آتی ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ضرورت کے وقت بارش کے لیے اللہ سے دعا کی جا سکتی ہے۔
  • زیادہ بارش سے نقصان ہو تو اللہ سے اس کے ہٹنے کی دعا کی جا سکتی ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ کے دوران سائل کی بات سنی۔
  • دعا میں ضرورت کو صاف الفاظ میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں