صحیح بخاری حدیث ۶۳۹ - اقامت کے بعد غسل کے لیے جانا
اقامت کے بعد طہارت یاد آئے تو کیا کیا جائے؟ حدیث
صحیح بخاری : ۶۳۹
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۳۹
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ وَقَدْ أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَعُدِّلَتِ الصُّفُوفُ ، حَتَّى إِذَا قَامَ فِي مُصَلَّاهُ انْتَظَرْنَا أَنْ يُكَبِّرَ انْصَرَفَ ، قَالَ : عَلَى مَكَانِكُمْ ، فَمَكَثْنَا عَلَى هَيْئَتِنَا حَتَّى خَرَجَ إِلَيْنَا يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَاءً ، وَقَدِ اغْتَسَلَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ایک دن حجرے سے) باہر تشریف لائے، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر کی جا چکی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب مصلے پر کھڑے ہوئے تو ہم انتظار کر رہے تھے کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کہتے ہیں۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ ہم اسی حالت میں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوبارہ تشریف لائے، تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کیا تھا۔
صحیح بخاری حدیث ۶۳۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اقامت کہی جا چکی تھی اور صفیں برابر ہو چکی تھیں۔ جب آپ مصلے پر کھڑے ہوئے تو صحابہ انتظار کر رہے تھے کہ آپ تکبیر کہیں گے، مگر آپ واپس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو۔ صحابہ اسی حالت میں ٹھہرے رہے، پھر آپ واپس آئے تو سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا، کیونکہ آپ نے غسل کیا تھا۔ اس حدیث میں نماز سے پہلے طہارت کی اہمیت بھی ہے اور جماعت کو اپنی جگہ ٹھہرنے کی ہدایت بھی۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز سے پہلے طہارت کا خیال ضروری ہے۔
- ضرورت ہو تو اقامت کے بعد بھی واپس جا کر غسل کیا گیا۔
- صحابہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اپنی جگہ انتظار کیا۔
- نماز شروع کرنے سے پہلے درست حالت کا خیال رکھا گیا۔
