صحیح بخاری حدیث ۶۴۰ - امام کو غسل کی ضرورت ہو تو انتظار

امام کو طہارت کی ضرورت یاد آئے تو جماعت کا انتظار کرنا

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۰

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَسَوَّى النَّاسُ صُفُوفَهُمْ ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَقَدَّمَ وَهُوَ جُنُبٌ ، ثُمَّ قَالَ : عَلَى مَكَانِكُمْ ، فَرَجَعَ فَاغْتَسَلَ ، ثُمَّ خَرَجَ وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ مَاءً فَصَلَّى بِهِمْ " .

ابوہریرہ روایت:

نماز کے لیے اقامت کہی جا چکی تھی اور لوگوں نے صفیں سیدھی کر لی تھیں۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آگے بڑھے۔ لیکن حالت جنابت میں تھے (مگر پہلے خیال نہ رہا) اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اپنی اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم غسل کئے ہوئے تھے اور سر مبارک سے پانی ٹپک رہا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں بتایا گیا کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھی، لوگوں نے صفیں سیدھی کر لی تھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے۔ پھر آپ کو حالت جنابت کا خیال ہوا، تو فرمایا کہ تم لوگ اپنی جگہ ٹھہرے رہو۔ آپ واپس گئے، غسل کیا، پھر سر مبارک سے پانی ٹپکتا ہوا واپس آئے اور لوگوں کو نماز پڑھائی۔ اس روایت کا اصل موضوع طہارت اور جماعت کی ترتیب ہے۔ اس میں یہ بات صاف ہے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے پاکی کا خیال رکھا گیا۔ ساتھ ہی لوگوں کو بے ترتیبی سے بچانے کے لیے اپنی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا گیا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نماز سے پہلے طہارت کو مقدم رکھا گیا۔
  • امام کو ضرورت پیش آئے تو جماعت انتظار کر سکتی ہے۔
  • صفیں بن جانے کے بعد بھی نظم برقرار رکھا گیا۔
  • نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غسل کر کے نماز پڑھائی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں