صحیح بخاری حدیث ۶۴۱ - قضا نماز عصر
نماز عصر قضا ہونے کی صورت میں کیا کیا جائے؟
صحیح بخاری : ۶۴۱
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۱
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ ، يَقُولُ : أَخْبَرَنَا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَاللَّهِ مَا كِدْتُ أَنْ أُصَلِّيَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَفْطَرَ الصَّائِمُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : وَاللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا ، فَنَزَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى بُطْحَانَ وَأَنَا مَعَهُ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلَّى يَعْنِي الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ ، ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ " .
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شیبان نے یحییٰ کے واسطہ سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے ابوسلمہ سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہمیں جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے دن حاضر ہوئے اور عرض کی یا رسول اللہ! قسم اللہ کی سورج غروب ہونے کو ہی تھا کہ میں اب عصر کی نماز پڑھ سکا ہوں۔ آپ جب حاضر خدمت ہوئے تو روزہ افطار کرنے کا وقت آ چکا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اللہ کی میں نے بھی تو نماز عصر نہیں پڑھی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بطحان کی طرف گئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر عصر کی نماز پڑھی۔ سورج ڈوب چکا تھا۔ پھر اس کے بعد مغرب کی نماز پڑھی۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۱ کا خلاصہ
یہ حدیث غزوہ خندق کے دن پیش آنے والے واقعے کو بیان کرتی ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ وہ سورج غروب ہونے تک عصر ادا نہ کر سکے۔ نبی کریم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ آپ صلى الله عليه وسلم بھی عصر ادا نہ کر سکے تھے۔ پھر آپ صلى الله عليه وسلم نے وضو کیا، پہلے عصر کی نماز ادا کی اور اس کے بعد مغرب پڑھی۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کسی عذر کی وجہ سے نماز رہ جائے تو اسے بعد میں ادا کیا جائے اور نمازوں کی ترتیب کا خیال رکھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- رہ جانے والی نماز بعد میں ادا کی جائے۔
- عذر کی حالت میں تاخیر ہو سکتی ہے۔
- قضا نماز کی ادائیگی اہم ہے۔
