صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۱ - دنیا کی وسعت اور آخرت کی فکر

دنیا کی وسعت کی حدیث: مال آئے تو فکر بھی آئے

صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۳۱

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي قَيْسٌ ، قَالَ : أَتَيْتُ خَبَّابًا : وَهُوَ يَبْنِي حَائِطًا لَهُ فَقَالَ : " إِنَّ أَصْحَابَنَا الَّذِينَ مَضَوْا لَمْ تَنْقُصْهُمُ الدُّنْيَا شَيْئًا ، وَإِنَّا أَصَبْنَا مِنْ بَعْدِهِمْ شَيْئًا لَا نَجِدُ لَهُ مَوْضِعًا إِلَّا التُّرَابَ " .

قیس بن ابی حازم روایت:

میں خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ ہمارے ساتھی جو گزر گئے دنیا نے ان کے نیک اعمال میں سے کچھ کمی نہیں کی لیکن ان کے بعد ہم کو اتنا پیسہ ملا کہ ہم اس کو کہاں خرچ کریں بس اس مٹی اور پانی یعنی عمارت میں ہم کو اسے خرچ کا موقع ملا ہے۔

صحیح بخاری حدیث ۶۴۳۱ کا خلاصہ

اس روایت میں قیس بن ابی حازم کہتے ہیں کہ وہ خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے، وہ اپنے مکان کی دیوار بنوا رہے تھے۔ خباب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمارے وہ ساتھی جو گزر گئے، دنیا نے ان کے نیک اعمال میں کچھ کمی نہیں کی۔ پھر فرمایا کہ ان کے بعد ہمیں ایسا مال ملا جس کے خرچ کی جگہ ہمیں مٹی اور پانی، یعنی عمارت کے سوا نہ ملی۔ اس حدیث میں دنیا سے نفرت کا مبالغہ نہیں، بلکہ ایک صحابی کی آخرت کے بارے میں حساس سوچ ہے۔ مال آ جائے تو آدمی کو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ کہاں لگ رہا ہے۔ دنیا کا سامان بڑھنا خود مقصد نہیں بننا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مال آنے پر اس کے استعمال کے بارے میں سنجیدہ سوچ ضروری ہے۔
  • صحابہ دنیا کے معاملے میں اپنے دل کا جائزہ لیتے تھے۔
  • نیک اعمال کی حفاظت انسان کی اصل فکر ہونی چاہیے۔
  • عمارت اور سامان میں خرچ کرتے وقت آخرت کو نہیں بھولنا چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں