صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۲ - اپنا مال وہ ہے جو آگے بھیج دیا
صدقہ اور اپنا مال کی حدیث: جو آگے بھیجا وہی اصل ہے
صحیح بخاری : ۶۴۴۲
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۴۲
حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ التَّيْمِيُّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُّكُمْ مَالُ وَارِثِهِ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِنْ مَالِهِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا مَالُهُ أَحَبُّ إِلَيْهِ ، قَالَ : " فَإِنَّ مَالَهُ مَا قَدَّمَ ، وَمَالُ وَارِثِهِ مَا أَخَّرَ " .
عبداللہ بن مسعود روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال پیارا ہو۔“ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں کوئی ایسا نہیں جسے مال زیادہ پیارا نہ ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پھر اس کا مال وہ ہے جو اس نے (موت سے) پہلے (اللہ کے راستہ میں خرچ) کیا اور اس کے وارث کا مال وہ ہے جو وہ چھوڑ کر مرا۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے صحابہ سے سوال کیا کہ تم میں کون ہے جسے اپنے مال سے زیادہ اپنے وارث کا مال محبوب ہو؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ہم میں کوئی ایسا نہیں جسے اپنا مال زیادہ محبوب نہ ہو۔ اس پر آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ انسان کا مال وہ ہے جو اس نے پہلے بھیج دیا، اور وارث کا مال وہ ہے جو پیچھے چھوڑ گیا۔ اس حدیث میں مال کی حقیقت بہت آسان انداز میں سمجھائی گئی ہے۔ جو کچھ آدمی اللہ کے راستے میں، بھلے کام میں یا صحیح جگہ خرچ کر دیتا ہے، وہ اس کے لیے آگے جاتا ہے۔ جو صرف جمع رہ جائے اور موت کے بعد رہ جائے، وہ وارثوں کا حصہ بن جاتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اصل فائدہ اس مال کا ہے جو زندگی میں نیکی کے لیے خرچ ہو۔
- صرف جمع کیا ہوا مال آخرکار وارثوں کے پاس رہ جاتا ہے۔
- انسان کو موت سے پہلے اپنے مال کا صحیح استعمال سوچنا چاہیے۔
- صدقہ اور خیر کے کام آدمی کے لیے آگے جاتے ہیں۔
