صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۵ - احد برابر سونا بھی باقی نہ رہے
احد برابر سونا والی حدیث: مال روکنے کے بجائے حق ادا کرنا
صحیح بخاری : ۶۴۴۵
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۴۵
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ ، وَقَالَ اللَّيْثُ ، حَدَّثَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ كَانَ لِي مِثْلُ أُحُدٍ ذَهَبًا ، لَسَرَّنِي أَنْ لَا تَمُرَّ عَلَيَّ ثَلَاثُ لَيَالٍ وَعِنْدِي مِنْهُ شَيْءٌ ، إِلَّا شَيْئًا أَرْصُدُهُ لِدَيْنٍ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہو تو مجھے اس میں خوشی ہو گی کہ تین دن بھی مجھ پر اس حال میں نہ گزرنے پائیں کہ اس میں سے میرے پاس کچھ بھی باقی بچے۔ البتہ اگر کسی کا قرض دور کرنے کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔
صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر سونا بھی ہو تو مجھے خوشی اس میں ہو گی کہ تین دن بھی اس حال میں نہ گزریں کہ اس میں سے کچھ میرے پاس باقی رہے۔ البتہ اگر کسی قرض کی ادائیگی کے لیے کچھ رکھ چھوڑوں تو یہ اور بات ہے۔ اس حدیث میں سخاوت اور قرض دونوں کا سبق ہے۔ مال کو صرف جمع رکھنا پسندیدہ طریقہ نہیں بتایا گیا، بلکہ اسے مناسب جگہ خرچ کرنا چاہیے۔ ساتھ ہی قرض کو نظر انداز نہیں کیا گیا، بلکہ اس کی ادائیگی کے لیے مال روکنے کی گنجائش بیان ہوئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ خرچ اور ذمہ داری دونوں ساتھ چلتے ہیں۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مال کو بلا ضرورت جمع رکھنے کے بجائے خرچ کرنا بہتر بتایا گیا ہے۔
- قرض کی ادائیگی اہم ذمہ داری ہے، اس کے لیے مال رکھنا مستثنیٰ ہے۔
- سخاوت کا مطلب ذمہ داری چھوڑ دینا نہیں۔
- دنیا کے مال کو مقصد نہیں بلکہ امانت سمجھنا چاہیے۔
