صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۶ - اصل امیری دل کی غنا ہے
دل کی غنا کی حدیث: اصل امیری کیا ہے؟
صحیح بخاری : ۶۴۴۶
صحیح بخاریحدیث نمبر ۶۴۴۶
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو حَصِينٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لَيْسَ الْغِنَى عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ ، وَلَكِنَّ الْغِنَى غِنَى النَّفْسِ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تونگری یہ نہیں ہے کہ سامان زیادہ ہو، بلکہ امیری یہ ہے کہ دل غنی ہو۔“
صحیح بخاری حدیث ۶۴۴۶ کا خلاصہ
یہ حدیث بہت صاف انداز میں بتاتی ہے کہ اصل امیری مال، سامان اور دنیاوی چیزوں کی زیادتی کا نام نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ حقیقی غنا دل کی غنا ہے۔ یعنی انسان کے پاس چیزیں کم بھی ہوں، مگر دل مطمئن ہو، حرص کم ہو، اور وہ اپنے حال پر بے جا شکوہ نہ کرے، تو یہ بڑی نعمت ہے۔ اس حدیث کا مرکزی پیغام قناعت، دل کی امیری اور اندرونی سکون ہے۔ آج لوگ اکثر مال کی زیادتی کو کامیابی سمجھتے ہیں، مگر یہ حدیث نظر بدل دیتی ہے۔ دولت فائدہ دے سکتی ہے، مگر دل کا غنی ہونا انسان کو زیادہ مضبوط بناتا ہے۔ اس لیے نیت یہ ہونی چاہیے کہ رزق ملے تو شکر ہو، کم ہو تو صبر ہو، اور دل لالچ کا غلام نہ بنے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- حقیقی امیری صرف مال کی زیادتی سے نہیں ہوتی۔
- دل کا مطمئن اور قانع ہونا بڑی نعمت ہے۔
- انسان کو سامان کی کثرت کے بجائے دل کی حالت پر توجہ دینی چاہیے۔
- رزق ملنے پر شکر اور کمی میں صبر بہتر رویہ ہے۔
